’ظالمان‘ ہی خودکش حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں:رحمان ملک

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان کے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں پر حملے میں خود کش حملہ آور ملوث تھے اور خود کش حملے کرانے کی صلاحیت اور طاقت صرف اور صرف کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے پاس ہے۔
سابق وزیر داخلہ بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیربین سے بات کرتے ہوئے اس بات سے متفق نظر نہیں آئے کہ ان حملوں کا تعلق طالبان سے نہیں ہے۔
رحمان ملک نےجو ہمیشہ طالبان کی جگہ ’ظالمان‘ کا استعمال کرتے رہے ہیں کہا کہ ’ظالمان‘ کی حکمت عملی ہمیشہ ہی ’ڈی سپٹیو‘ یا دھوکہ دہی پر مبنی رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ طالبان کے بہت سے گروہ یا شاخیں ہیں اور یہ ضرورت کے تحت کبھی ایک گروہ سے اور کبھی کسی دوسرے سے ذمہ داری قبول کروا لیتے ہیں۔
مذاکرات کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ بات ان سے ہوتی ہے جی کی نیت ٹھیک ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ظالمان‘ بد نیت ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ مذاکرات ملکوں کے درمیان ہوتے ہیں یہ لوگ تو جرائم پیشہ اور دہشت گرد ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر یہ پاکستان سے، ملک سے اور عوام کے مخلص ہیں تو ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں کیوں نہیں آ جاتے۔
انھوں نے کہا کہ وہ طالبان کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے آئین کی ایک شق کو بھی غیر اسلامی قرار دے دیں تو وہ ان کی بات مان لیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رحمان ملک نے کہا کہ یہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں پیسے بناتے ہیں، لوگوں کو اغوا کرکے پیسے بناتے ہیں، بھتہ خوری کرتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ مرحوم گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے کو اغوا کرنا کہاں کا اسلام ہے۔
طالبان پر مزید تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شاہد اللہ شاہد ایک فرضی نام ہے۔ رحمان ملک نے کہا کہ انھوں نے سینیٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے کہ نادرا کے ریکارڈ سے شاہد اللہ شاہد کی شناخت ثابت کی جائے۔
ایک سوال کے جواب میں رحمان ملک نے کہا کہ ان کے خلاف صرف شمالی وزیرستان میں نہیں بلکہ پورے ملک میں کارروائی کرنا ہو گی۔
اس ضمن میں انھوں نے پروفیسر ابراہیم کے ایک حالیہ بیان کا حوالہ دیا جس میں پروفیسر ابراہیم نے کہا تھا کہ طالبان نے اپنی ضلعی تنظیموں کو بھی یہ ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ کوئی کارروائی نہ کریں۔
رحمان ملک نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کا لشکر جھنگوی، غازی فورس اور دیگر شدت پسند تنظیوں کے ساتھ زبردست تعلقات اور مضبوط روابط ہیں۔
اپنی وزارت کے دور میں طالبان سے مذاکرات کے تجربے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سینیٹ کے چند ارکان کے ذریعے ان کے حکیم اللہ محسود سے رابطے اور مذاکرات کے تین ادوار بھی ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ چوتھی ملاقات میں بات شریعت کے نفاذ اور پاکستان آئین کے سوال پر آ کر رک گئی تھی۔
انھوں نے کہا کہ طالبان سے سنہ دو ہزار چار، دو ہزار پانچ اور دو ہزار سات میں مذاکرات ہوئے اور انھوں نے تمام ہی موقعوں پر اپنے قیدیوں کو چھڑانے اور حکومت سے معاوضہ لینے کی بات کی اور مذاکرات کےدوران وقت کو خود کو منظم کرنے کے لیے استعمال کیا۔
ایک اور سوال کے جواب میں رحمان ملک نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف سابق حکومت اور موجودہ حکومت کی پالیسی میں زیادہ فرق نہیں ہے۔







