’آپریشن کا مرکزی ہدف غیر ملکی شدت پسند ہیں‘

فاٹا میں پھر سے قبائلی ڈھانچے کو پورے آب و تاب کے ساتھ زندہ کیا جائے گا: سردار مہتاب احمد خان
،تصویر کا کیپشنفاٹا میں پھر سے قبائلی ڈھانچے کو پورے آب و تاب کے ساتھ زندہ کیا جائے گا: سردار مہتاب احمد خان
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے گورنر سردار مہتاب احمد خان نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کا مرکزی ہدف غیر ملکی شدت پسند ہیں جن کا پیچھا اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک ان کا جڑ سے خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

گورنر ہاؤس پشاور میں بی بی سی اردو سروس کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سردار مہتاب نے کہا کہ غیر ملکی شدت پسندوں نے پچھلی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے قبائلی علاقوں میں اپنا راج قائم کیا ہوا تھا اور یہاں سے وہ پاکستان کے اندر کارروائیوں میں ملوث تھے۔

انھوں نے کہا کہ ان غیر ملکی دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے باعث بیشتر قبائلی علاقے اور ان کے عوام یرغمال بنے ہوئے تھے اور اس دوران یہ امکان بھی موجود رہا کہ پاکستانی سرزمین کو بیرونی ممالک کے خلاف استعمال کیا جائے۔

گورنر نے واضح کیا کہ آپریشن ضربِ عضب صرف ازبک جنگجوؤں کے خلاف نہیں کیا جا رہا بلکہ تمام غیر ملکی عسکریت پسند اس کے نشانے پر ہیں، جن میں تاجک، چیچن اور چینی شدت پسند خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔

ان کے بقول: ’پاکستان میں کچھ عرصے سے القاعدہ کے جنگجوؤں کی کارروائیاں کم ہوگئی ہیں یا شاید وہ یہاں سے دیگر ملکوں میں منتقل ہوگئے ہیں، لیکن دیگر غیر ملکی عسکری تنظمیوں کی کارروائیاں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہی ہیں جس کا قلع قمع کرنا ضروری ہوگیا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردی اور شدت پسندی کے باعث ملک کا سارا نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے، ہماری معیشت ختم ہو رہی ہے۔ اس لیے ہم فیصلہ کر چکے ہیں کہ دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہے کیونکہ اب ہمیں اور ہماری نسلوں کو امن و سکون چاہیے۔‘

طالبان سے مذاکرات کے بارے میں ایک سوال کے جواب دیتے ہوئے سردار مہتاب احمد خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی طالبان پھر بھی اس ملک کے شہری ہیں، پاکستانی ہیں، ماضی میں چاہے ان کا جو بھی کردار رہا ہو ہم اس کو بھولنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ وہ پاکستان کے قانون و آئین کے سامنے خود کو پیش کریں اور یہ سب کا عمومی فیصلہ ہے۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ اس طرح کی اطلاعات ہیں کہ آپریشن سے پہلے زیادہ تر شدت پسند شمالی وزیرستان سے نکل جانے میں کامیاب ہوچکے ہیں تو اس پر انھوں نے کہا کہ شدت پسند جدھر بھی جائیں گے سکیورٹی فورسز ان کا پیچھا کرتی رہیں گی۔ انھوں نے کہا کہ زیادہ تر قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار پہلے سے تعینات ہیں لہٰذا عسکریت پسندوں کا بچ کر جانے کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔

شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضربِ عضب کے ٹائم فریم کے بارے میں گورنر نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ان کارروائیوں کو زیادہ طویل نہیں رکھا جائے۔

ان کے مطابق: ’آپریشن کے نتیجے میں لاکھوں افراد پہلے ہی بے گھر ہو چکے ہیں، میں ان متاثرین کو سلام پیش کرتا ہوں جنھوں نے ملک و قوم کی خاطر خود کو مشکل میں ڈالا ہوا ہے، اس لیے ہماری کوشش ہے کہ یہ کارروائیاں جلد اختتام کو پہنچ تاکہ متاثرین جلد از جلد اپنے گھروں کو واپس عزت و احترام سے جائیں۔‘

قبائلی جرگہ کی ناکامی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سردار مہتاب احمد خان نے کہا کہ اتمان زئی وزیر قبائل کا جرگہ ناکام نہیں ہوا بلکہ حالات کچھ اس طرح پیدا ہوئے جس کی وجہ سے جرگہ کو کام کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔

تاہم انھوں نے کہا کہ آپریشن کے دوسرے مرحلے پر قبائلی مشران کو پھر سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور حکومت ان کے پیچھے پوری طاقت سے کھڑی ہوگی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ فاٹا میں پھر سے قبائلی ڈھانچے کو پورے آب و تاب کے ساتھ زندہ کیا جائے گا اور اس سلسلے میں تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ وہ حالیہ آپریشن میں افغان حکومت سے مسلسل رابطے برقرار ہیں اور کامیابی کے لیے دونوں حکومتوں کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا پڑے گا ورنہ دونوں پڑوسی ممالک کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔