لاہور میں احتجاج، آپریشن ضربِ عضب، گرمی کا زور اور لال شہباز کا عرس
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی جاری ہے۔ فوج نے علاقے سے عام شہریوں کو نکلنے کے لیے تین دن کی مہلت دی تھی اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہزاروں لوگوں نے محفوظ علاقوں کی جانب نقل مکانی کی ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کی فوج کی زیادہ توجہ فضائی طاقت کے ذریعے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے پر ہے۔ اس کے علاوہ فوجیوں کی بڑی تعداد کو بھی علاقے میں تعینات کیا جا رہا ہے۔ فوج کے مطابق اب تک کی کارروائیوں میں 200 سے زائد شدت پسند مارے گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد سے ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں۔ غیر قانونی تنظیم تحریک طالبان نے آپریشن کے درعمل میں جوابی کارروائیاں کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ شدت پسندی سے متاثرہ شہر پشاور میں خصوصی اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان میں ایک عرصے سے شدت پسندوں کی دھمکیوں اور پابندیوں کی وجہ سے بچوں کو پولیو وائرس سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جا سکے اور اب اطلاعات کے مطابق حکومت نے شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے ساتھ بچوں کو قطرے پلانے کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن کے سیکریٹیریٹ کے قریب پولیس اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 97 کے قریب زخمی ہوگئے۔صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے کہنے پر صوبائی وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس واقعے پر صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے کہنے پر صوبائی وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک کے کارکن اس واقعے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ مقامی میڈیا میں پنجاب حکومت کی جانب سے طاقت کے استعمال پر خاصی تنقید کی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنگذشتہ ہفتے دنیا بھر میں مہاجرین کا عالمی دنیا منایا گیا اور مہاجرین کے عالمی ادارے کے مطابق دنیا میں دوسری جنگ عظیم کے بعد مہاجرین کی تعداد سب سے زیادہ ہو گئی ہے۔ پاکستان میں جہاں اندرون ملک مختلف علاقوں میں شورش کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی نقل مکانی کے مسئلے کا سامنا ہے وہیں اس نے کئی دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے اور مہاجرین کے عالمی ادارے کے مطابق پاکستان دنیا میں مہاجرین کا سب سے بڑا میزبان ہے۔
،تصویر کا کیپشنصوبہ سندھ کے شہر سیہون میں قلندر لعل شہباز کے عرس کے پہلے دو دنوں میں بدھ کی شام تک شدید گرمی کی وجہ سے 43 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔عرس میں شرکت کرنے کے لیے ملک بھر کے دور دراز علاقوں سے ہزاروں زائرین سیہون پہنچے ہیں۔ سیہون کراچی سے ڈھائی سو کلومیٹر کے فاصلے پر انڈس ہائی وے پر واقع ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری گرمی کی حالیہ لہر غیر معمولی طور پر طویل ہے جس سے نہ صرف کئی علاقوں میں فصلوں کو نقصان پہنچا ہے بلکہ گرمی اور لُو کے باعث ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
،تصویر کا کیپشن 20 جون کو کراچی میں ہونے والے فیشن شو میں مختلف ڈزائنروں نے اپنے لباسوں کی نمائش کی۔