ڈیرہ بگٹی میں آپریشن، 30 عسکریت پسند ہلاک: سرفراز بگٹی

سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں میں کالعدم تنظیم کے دو کمانڈر بھی شامل ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنسرفراز بگٹی نے کہا کہ ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں میں کالعدم تنظیم کے دو کمانڈر بھی شامل ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں ایف سی کی کارروائی کے دوران 30 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جمعرات کو ایف سی نے ڈیرہ بگٹی کے علاقے دریجن میں سرچ آپریشن کا آغاز کیا۔

کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ سرچ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کی عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس میں ایک اہلکار ہلاک ہوا جبکہ 30 عسکریت پسند ہلاک کیے گئے۔

سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں میں کالعدم تنظیم کے دو کمانڈر بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سرچ آپریشن میں آٹھ فراری کیمپ بھی تباہ کیے گئے۔

سرفراز بگٹی نے میڈیا کو بتایا کہ تین جون کو بلوچستان اور سندھ کے سرحدی علاقے میں سکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا جس میں سندھ رینجرز کے دو اہلکار ہلاک ہوئے۔

اس جھڑپ کے بعد عسکریت پسند سرحدی علاقے سے ڈیرہ بگٹی کے علاقے دریجن منتقل ہو گئے تھے۔

تاہم صوبائی وزیر داخلہ کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

بلوچ رپبلیکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے بی بی سی کو فون کر کے بتایا ہے کہ اس کارروائی میں ان کے ایک کمانڈر سمیت سات افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم انہوں نے ایک افسر سے سمیت 20 سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا بھی دعوی کیا۔