پرچون فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش ہے: اسحاق ڈار

’ملک میں نو کروڑ افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ان کو حکومتی امداد کی ضرورت ہے‘
،تصویر کا کیپشن’ملک میں نو کروڑ افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ان کو حکومتی امداد کی ضرورت ہے‘
    • مصنف, سارہ حسن
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ریٹیلرز یا پرچون فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں لیکن مقصد کاروباری طبقے کو ہراساں کرنا نہیں ہے۔

انھوں نے یہ بات بدھ کو اسلام آباد میں مالی سال دو ہزار چودہ دو ہزار پندرہ کے بجٹ پر تفصیلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی 18کروڑ کی آبادی میں سے محض چند لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں نو کروڑ افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ان کو حکومتی امداد کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ چھوٹے قرضوں کی سکیم، نوجوانوں اور طالب علموں کو وظائف دینا ایسے منصوبے ہیں جن سے غریب خاندانوں کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے میں مدد ملے گی۔

’بجٹ کی ترجیحات دو ہی تھیں۔ پسماندہ طبقے کے لیے سوشل سکیورٹی نیٹ اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے ہیں کیونکہ اس کے بغیر ویسے ہی حالات ہو جائیں گے جو ایک سال پہلے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ملنے والے ماہانہ وظیفے کو 1200 سے بڑھا کر 1500 روپے کیا گیا ہے اور 53 لاکھ خاندانوں کو ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے ٹیکسوں کا دائرہ وسیع کرنے اور غیر ضروری مراعات کو ختم کرنے سے حکومت کو اضافی 231 ارب روپے کی اضافی آمدن ہو گی۔

اسحاق ڈار نے قیمتوں میں ممکنہ اضافے کی خبروں کی تردید کی اور کہا کہ بجٹ کا سہارا لے کر کسی کو بھی قیمتوں میں بلا ضرورت اضافہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔ انھوں نے خبردار کیا کہ حکومت قیمتیں بڑھانے والوں سے سختی سے نمٹے گی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال میں اقتصادی ترقی کی شرح چار اعشاریہ ایک فیصد اور حکومتی خسارے میں کمی ہوئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اقتصادی پالیسیاں صحیح سمت میں کام کر رہی ہیں۔

انھوں نے کہا زرعی شعبے میں کم ترقی کی شرح مجموعی اقتصادی ترقی پر بھی اثرانداز ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت زراعت کی ترقی کے لیے تین لاکھ چھوٹے کسانوں کو سرکاری ضمانت پر قرضے جاری کرے گی۔

وزیر خزانہ نے کئی بار اس بات کو دہرایا کہ معیشت کو مکمل طور پر صحیح کرنے میں وقت لگے گا۔ ’مہنگائی اور دوسری ساری چیزیں نہ ایک سال میں ٹھیک ہوتی ہیں نہ ہی ایک سال میں خراب۔ ہمیں سب سے پہلے اس رجحان کو ختم کرنا تھا جو خرابیاں پیدا کر رہا تھا۔‘

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ برآمدت میں اضافے پر زور دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کے صنعت برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی صنعت اور یورپی منڈیوں میں ملنے والی اضافی رسائی سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے لیے صنعت سے وابستہ افراد کو سرکاری سطح پر تربیت فراہم کی جائے گی۔