بجٹ کا عام لوگوں پر کیا اثر پڑے گا؟

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, عنبر شمسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی قومی اسمبلی میں بجٹ کے سلسلے میں وزیرِ خزانہ کی تقریر میڈیا میں کئی گھنٹوں براہِ راست دکھائی گئی۔ ماہرِ اقتصادیات اور سیاست دان کئی گھنٹوں تک بحث کرتے رہتے ہیں، تاہم 2013-2014 کے بجٹ کا عام لوگوں پر کیا اثر ہوگا؟

خاص کر ان خواتین پر جو خود بجٹ بناتی ہیں؟ ہماری ساتھی عنبر شمسی نے متوسط طبقے کے گھرانوں سے منسلک تین خواتین سے بات کی۔

آسمہ عثمان، دس افراد پر مشتمل گھرانہ

بجٹ: اسی ہزار روپے ماہانہ (بچوں کی تعلیم اور پٹرول کے اخراجات شامل نہیں)

’شاید امیر گھرانوں کے مقابلے میں ہمارا بجٹ کم ہو لیکن جب میں دیکھتی ہوں کہ ہمارے ملک میں غریبوں کا کیا حال ہے تو شکر کرتی ہوں۔ کھینچ کھانچ کر ہمارا کام تو چل رہا ہے لیکن میں نے دیکھا ہے کہ ہر سال کھانے پینے کے سامان میں خاص چیزوں کی مقدار ہمیں کم کرنی پڑی رہی ہے۔ ستر کی دہائی میں سونا فی تولا دو سو روپے تھا، اور اب کیلے دو سو روپے فی درجن ہیں! میں ٹی وی پر ٹاک شوز دیکھتی ہوں اور بجٹ کے حوالے سے ایک شو پر حزبِ مخالف کی جماعت کے رکن نے کہا کہ پاکستان میں انفراسٹرکچر کی ضرورت کم ہے اور سماجی بہبود پر خرچ کرنے کی ضرورت زیادہ، جس سے میں اتفاق کرتی ہوں۔‘

’اگر حکومت تعلیم اور تربیت مفت فراہم کرے، تو نوجوانوں کو نوکریاں ملنا آسان ہو جائے گا اور ملک کی معیشت بہتر ہو گی۔‘

پروین بی بی، سات افراد پر مشتمل گھرانہ

بجٹ: دس ہزار روپے ماہانہ

’بینگن جیسی سبزی کی کیا حیثیت ہوتی ہے؟ لیکن آج کل تو میں وہ بھی نہیں خرید سکتی، نہ ہی ٹماٹر۔ پھل تو اب خریدنے کا تصور نہیں کر سکتی۔ دال بھی ڈیڑھ دو سو روپے فی کلو ہو گئی اور وہ بھی مشکل سے خریدی جاتی ہے۔ میں چار گھروں میں صفائی کا کام کرتی ہوں اور روز بسوں پر راولپنڈی سے اسلام آباد آتی ہوں۔ میری تنخواہ کی ایک تہائی بسوں کے کرائیوں پر چلے جاتے ہیں، باقی کھانے پینے کی اشیا اور بجلی اور گیس کے بلوں پر۔ اوپر سے رات بھر بجلی نہیں ہوتی۔‘

’شوہر بیمار ہیں اور سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر مفت علاج تو کر لیتے ہیں مگر ادویات اور ٹیسٹ کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔ میرے بیٹوں کو نوکریاں نہیں ملتی۔ ہمارے علاقے میں گھر سے باہر نکلیں، تو لڑکے ایسے ہی سڑک پر پڑے رہتے ہیں، چرس استعمال کرتے ہیں۔ میری حکومت سے سفارش ہے کہ وہ ہمارے بچوں کے لیے نوکری کے مواقعے پیدا کریں۔‘

فرہین فیصل، چار افراد پر مشتمل گھرانہ

بجٹ: چالیس ہزار روپے ماہانہ

’اگر مجھے اپنے شوہر کی تنخواہ پر انحصار کرنا پڑے تو گزارا مشکل ہو جائے گا، اسی لیے میں سکول میں پڑھاتی ہوں تاکہ بچوں کی فیس میں رعایت ملے اور اضافی خرچے پورے ہو سکیں۔ میں گھر پر ٹیوشن بھی اسی لیے پڑھاتی ہوں۔ میں گھر تو نہیں چلاتی، گھر کے بجٹ کو ساس نے سنبھالا ہوا ہے، لیکن تعلیم ہی اتنی مہنگی ہو گئی ہے۔

اور پھر باہر کھانا، بچوں کے کپڑے، خاندان اور دوست احباب میں لینا دینا، یہ سب بڑا مشکل ہو گیا ہے۔ میری کوہشش ہوتی ہے کہ چیزوں کو زیادہ سے زیادہ استعمال کروں تاکہ نئی چیزیں نہ خریدنی پڑیں۔ پتہ نہیں آئندہ پانچ برسوں میں کیا ہو گا۔‘