سجنا کی علیحدگی، تحریک طالبان پاکستان تقسیم

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں طالبان کے اہم کمانڈر خان سید سجنا نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان شمالی وزیرستان میں نامعلوم مقام پر خان سید سجنا کے دھڑے کے ترجمان اعظم طارق نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان اور مرکزی شوریٰ کے رکن اعظم طارق نے پریس کانفرنس میں تنظیم سے علیحدہ ہونے کے فیصلے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ تنظیم میں اصلاح اور اتحاد کی بہت کوششیں کیں لیکن کامیابی نہ ملی۔

اعظم طارق نے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملا فضل اللہ کے ساتھ اختلافات ہیں۔

تنظیم میں اصلاح اور اتحاد کی بہت کوششیں کیں لیکن کامیابی نہ ملی: اعظم طارق

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتنظیم میں اصلاح اور اتحاد کی بہت کوششیں کیں لیکن کامیابی نہ ملی: اعظم طارق

ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان ایک جرائم پیشہ تنظیم بن چکی ہے۔

یاد رہے کہ وزیرستان میں خان سید سجنا اور شہریار گروپ کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔

رپورٹس کے مطابق خان سید سجنا کا تعلق ولی الرحمان اور شہریار گروپ کا تعلق حکیم اللہ محسود کے دھڑے سے بتایا جاتا ہے۔ دونوں گروپ محسود قبیلے سے بتائے جاتے ہیں۔ ان گروپوں کے مابین جنوبی وزیرستان کی امارت اور بعض دیگر امور پر بہت پہلے سے اختلافات چلے آرہے ہیں۔

تاہم حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمان کی زندگی میں یہ اختلافات زیادہ گہرے نہیں تھے لیکن ان دونوں کمانڈروں کی ڈرون حملوں میں ہلاکت کے بعد اب یہ اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ان دونوں دھڑوں نے کراچی میں بھی ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔

یاد رہے کہ حال ہی میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ایک سینیئر رہنما کا کہنا تھا کہ طالبان گروہوں میں جنگ تو ختم ہو گئی ہے لیکن جنوبی وزیرستان کے کمانڈر خان سید سجنا نے اپنی عارضی معطلی کے حوالے سے امیر کا فیصلہ اب تک تسلیم نہیں کیا۔

طالبان قیادت میں شامل ایک رہنما کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملا فضل اللہ نے جنوبی وزیرستان میں تحریک کے انتظامی امور دو ماہ کے لیے خالد حقانی کو سونپے ہیں۔

واضح رہے کہ مختلف خبروں کے مطابق گذشتہ ماہ خان سید سجنا اور شہریار محسود گروپوں کے مابین لڑائی میں 50 کے قریب افراد مارے گئے تھے۔

تاہم اس لڑائی کا دائرہ جب ٹانک اور وزیرستان کے دیگر علاقوں تک پھیلنے لگا تو تحریک طالبان پاکستان اور حقانی نیٹ ورک کے بعض سینیئر کمانڈروں نے مداخلت کرتے ہوئے فریقین میں ایک ماہ کی جنگ بندی کرا دی تھی۔ لیکن بظاہر یہ کوششیں بھی زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئیں اور فائر بندی کے باوجود دونوں گروپوں کی طرف سے خفیہ طور پر ایک دوسرے کے جنگجوؤں کو ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔