پولو گراؤنڈ ریفرنس میں آصف زرداری کی بریت

عدالت کا کہنا تھا کہ ایس جی ایس اور کوٹیکنا میں ابھی کچھ شواہد پیش ہونے باقی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعدالت کا کہنا تھا کہ ایس جی ایس اور کوٹیکنا میں ابھی کچھ شواہد پیش ہونے باقی ہیں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کو پولو گراؤنڈ ریفرنس سے بری جبکہ ایس جی ایس کو کوٹیکنا ریفرنس میں بریت کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے ان مقدمات میں مذید شہادتیں طلب کرلی ہیں۔

عدالت نے بدھ کے روز کہا کہ دیگر دو مقدمات اے آر وائی اور ارسس ٹریکٹرز کے بارے میں فیصلہ چار جون کو سُنائے گی۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق صدر آصف علی زرداری کی طرف سے پانچ ریفرنس میں بریت کی درخواستوں پر فیصلہ سُناتے ہوئے کہا کہ پولو گراؤنڈ ریفرنس میں استغاثہ کی جانب سے ایسے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے جس سے ملزم کو مجرم قرار دیا جاسکے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ایس جی ایس اور کوٹیکنا میں ابھی کچھ شواہد پیش ہونے باقی ہیں جس سے اس مقدمے کو اپنے انجام تک پہنچانے اور اس مقدمے میں ملزم کے کردار کے بارے میں فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔

اس سے پہلے آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بریت کی درخواستوں کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے موکل کے خلاف ریفرنس میں ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں جس میں اُنھیں مجرم قرار دیا جاسکے اور اُن کے موکل نے انھی ریفرنس میں آٹھ سال سے زائد عرصہ جیل میں گُزارے ہیں۔

یاد رہے کہ آصف علی زرداری کی طرف سے صدارت کا عہدہ چھوڑنے کے بعد اُن کے خلاف ریفرنس کی سماعت دوبارہ شروع کردی گئی تھی اور ان پر ان مقدمات میں فرم جُرم عائد کی جانی تھی۔

تاہم اُن کے وکیل کی طرف سے بریت کی درخواست دائر کی گئی تھی جس پر فیصلہ سُنایا گیا۔ سابق صدر ان مقدمات میں ایک مرتبہ عدالت میں پیش ہوئےتاہم سکیورٹی خدشات کی بنا پر اُنھیں حاضری سے استثنیٰ دے دیا گیا تھا۔