پاکستان: منشیات کے استعمال میں 100 فیصد اضافہ

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد میں ایک برس کے دوران 100 فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
یہ بات اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کے سالانہ جائزے میں کہی گئی ہے جس میں گزشہ سال کے دوران ملک میں منشیات کے استعمال اور اس کے تدارک کے لیے ہونے والی کوششوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک برس میں 67 لاکھ افراد نے کسی نہ کسی شکل میں منشیات استعمال کی جن میں سے تقریباً ایک تہائی نشے کے عادی بھی بن چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نشہ کرنے والے افراد کی تعداد اس سے پچھلے سال 29 لاکھ ریکارڈ کی گئی تھی۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر کے مطابق ان منشیات میں چرس، ہیروئن، افیم اور نیند آور ادویات شامل ہیں۔
رپورٹ میں سرنج کے ذریعے نشہ آور اشیا اپنے جسم میں داخل کرنے والے افراد کے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اس سروے میں ملک کے چاروں صوبوں اور دیگر علاقوں میں رہنے والے 15 سے 64 برس کے مرد و خواتین کو شامل کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین میں نیند آور اور دیگر ممنوعہ ادویات کا استعمال روکنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے جب کہ چرس وہ نشہ ہے جو ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں زیادہ استعمال ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نشے کے عادی زیادہ تر افراد کی عمریں 25 سے 39 برس کے درمیان ہیں۔
رپورٹ میں نشے کے افراد کے علاج کی مفت سہولیات موجود نہ ہونے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔







