وزیرستان دھماکے میں طالبان کمانڈر سمیت چار ہلاک

جنوبی وزیرستان میں دو کمانڈروں خان سید سجنا اور شہریار گروپوں کے مابین جاری کشیدگی ہے جس میں اب تک دونوں جانب سے درجنوں ہلاکتیں ہوچکی ہیں (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنجنوبی وزیرستان میں دو کمانڈروں خان سید سجنا اور شہریار گروپوں کے مابین جاری کشیدگی ہے جس میں اب تک دونوں جانب سے درجنوں ہلاکتیں ہوچکی ہیں (فائل فوٹو)

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں اطلاعات کے مطابق ایک گاڑی پر ہونے والے ریموٹ کنٹرول بم حملے میں طالبان کے ایک اہم کمانڈر سمیت کم سے کم چار شدت پسند ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔

مقامی لوگوں کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی صبح جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا سب ڈویژن میں زانگڑہ کے مقام پر پیش آیا۔

مقامی اور سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں کم سے کم چار عسکریت پسند ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔

مرنے والوں میں طالبان کے ایک اہم کمانڈر امیر حمزہ بھی شامل ہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مرنے والوں عسکریت پسندوں کا تعلق کس گروپ سے ہے۔

بعض سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی وجہ جنوبی وزیرستان میں دو کمانڈروں خان سید سجنا اور شہریار گروپوں کے مابین جاری کشیدگی ہے جس میں اب تک دونوں جانب سے درجنوں ہلاکتیں ہوچکی ہیں، تاہم ابھی تک طالبان گروپوں کی جانب سے اس واقعے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ جنوبی وزیرستان کے علاقے بوبڑہ میں جیٹ طیاروں نے مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بمباری کا سلسلہ دو دنوں سے جاری ہے، تاہم سرکاری طورپر ایسی کسی کارروائی کی تصدیق نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ خان سید سجنا اور شہریار گروپوں کے مابین بہت پہلے سے اختلافات چلے آ رہے ہیں جس کے باعث اکثر اوقات ان کے درمیان جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں۔

چند ہفتے قبل ان جھڑپوں میں شدت آئی اور دونوں گروپوں نے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے حملے کیے۔

مقامی اور سرکاری ذرائع کے مطابق اس لڑائی میں اب تک تین درجن کے قریب افراد مارے جاچکے ہیں، تاہم بعد میں سینئیر افغان طالبان اور پاکستانی کمانڈروں کی کوششوں سے دونوں گروپوں کے مابین جنگ بندی کرائی گئی جس کے بعد حملوں کا سلسلہ روک گیا تھا۔