باڑہ: دھمکی کے بعد افغان پناہ گزینوں کی نقل مکانی

باڑہ بازار گذشتہ چار سال سے اب تک بند ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنباڑہ بازار گذشتہ چار سال سے اب تک بند ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ایک شدت پسند تنظیم نے باڑہ کے علاقے میں رہائش پذیر افغان پناہ گزینوں کے ایک قبیلے سے کہا ہے کہ وہ علاقہ فوری طور پر خالی کردیں جس کے بعد مقامی لوگوں کے مطابق چند خاندانوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

تحصیل باڑہ سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ اتوار کو شدت پسند تنظیم لشکرِ اسلام نے سپاہ کے علاقے میں آباد افغان پناہ گزینوں کے ایک قبیلے سے کہا ہے کہ وہ یہ علاقہ خالی کر دیں اور کسی اور مقام پر منتقل ہو جائیں ۔

جس افغان قبیلے سے علاقہ خالی کرنے کا کہا گیا ہے ان کا تعلق افغانستان کے صوبے ننگر ہار سے ہے اور نازیان کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ علاقے میں دیگر افغان قبائل آباد ہیں لیکن انھیں اس قسم کی کوئی دھمکی نہیں دی گئی ہے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ سپاہ کے علاقے میں درجنوں افغان خاندان آباد ہیں اور یہ علاقہ تحصیل باڑہ سے چند کلومیٹر دور واقع ہے۔

مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ شدت پسند تنظیم کا موقف واضح طور پر تو سامنے نہیں آیا تاہم یہ کہا گیا ہے کہ اس قبیلے کے لوگ تنظیم کے خلاف علاقے میں سرگرم تھے۔

اطلاعات کے مطابق چند ایک گھرانوں نے علاقے سے نقل مکانی شروع کر دی ہے اور محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔

خیبر ایجنسی میں حالات چند سالوں سے انتہائی کشیدہ ہیں۔ اس قبائلی علاقے میں تحریکِ طالبان کے علاوہ دیگر تنظیمیں بھی متحرک ہیں۔

کئی روز پہلے سکیورٹی فورسز نے خیبر ایجنسی کے علاقے تیراہ میں فوجی کارروائی کی تھی اور چند مقامات پر فضائی حملے کیے تھے جس میں ایک درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں اہم شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے جن میں اسلام آباد سبزی منڈی پر حملہ کرنے والے افراد بھی شامل تھے۔

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد اب بھی پشاور میں اپنے طور پر اور نوشہرہ کے قریب واقع پناہ گزینوں کے جلوزئی کیمپ میں آباد ہیں۔

اگرچہ پشاور سے باڑہ جانے والی شاہراہ کو چند ماہ پہلے عام ٹریفک کے لیے کھولا گیا تھا لیکن باڑہ بازار عرصہ چار سال سے اب تک بند ہے۔