باڑہ: لشکرِ اسلام کے مرکز میں دھماکا، تین ہلاک

سکیورٹی حالات کی وجہ سے پشاور کو خیبر ایجنسی سے منسلک کرنے والا اہم باڑہ روڈ چار سال تک بند رہا جسے آگست کے اوائل میں آمدو رفت کے لیے کھول دیا گیا
،تصویر کا کیپشنسکیورٹی حالات کی وجہ سے پشاور کو خیبر ایجنسی سے منسلک کرنے والا اہم باڑہ روڈ چار سال تک بند رہا جسے آگست کے اوائل میں آمدو رفت کے لیے کھول دیا گیا

پاکستان کے قبائلی علاقے خبیر ایجنسی کے تحصیل باڑہ کے علاقے نالہ میں شدت پسند تنظیم لشکرِ اسلام کے ایک مرکز میں دھماکے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

سرکاری ذرائع نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار عزیزاللہ خان کو بتایا کہ یہ بم دھماکا اتوار کو اس وقت ہوا جب لشکرِ اسلام کے مرکز میں گھریلو ساختہ بم بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

سرکای ذرائع کے مطابق اس واقعے میں لشکرِ اسلام کے تین اہم کمانڈر ہلاک ہوئے جن میں تنظیم کے ترجمان یونس خان، کمانڈر غفران اور ابو دردہ شامل ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس دھماکے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

<link type="page"><caption> خیبر ایجنسی سے نقل مکانی شروع</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/01/120124_khyber_migration_ra.shtml" platform="highweb"/></link>

باڑہ تحصیل خیبر ایجنیسی کا وہ علاقہ جہاں اسلام پسند تنظیموں لشکرِالسلام اور انصارالاسلام کے درمیان کشیدگی رہی ہے۔

گذشتہ سال کے اوائل میں کشیدگی اور فوجی کارروائی کی وجہ سے تحصیل باڑہ سے لگ بھگ ساڑھے تین ماہ میں ڈھائی لاکھ افراد نقل مکانی کر کے پشاور اور نوشہرہ کے قریب جلوزئی کیمپ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔

خراب سکیورٹی حالات کی وجہ سے پشاور کو خیبر ایجنسی سے منسلک کرنے والا اہم باڑہ روڈ چار سال تک بند رہا جسے آگست کے اوائل میں آمدو رفت کے لیے کھول دیا گیا۔

یہ روڈ چار سال پہلے دہشت گردی اور شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا۔

مقامی قبائل کی جانب سے باڑہ روڈ کھولنے کا مطالبہ بار بار دہرایا جاتا رہا۔ اس سال جنوری میں جب مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے اٹھارہ مقامی لوگ ہلاک ہو گئے تھے جن کی لاشیں یہاں گورنر ہاؤس کے سامنے لائی گئی تھیں۔

اس وقت بھی حکومت کے ساتھ معاہدے کے وقت دیگر مطالبوں میں ایک اہم مطالبہ یہی تھا کہ باڑہ روڈ کو فوری طور پر کھولا جائے۔

ادھر گذشتہ ہفتے خیبر ایجنسی میں تیراہ وادی کے متاثرین کی واپسی کا سلسلہ کوہاٹ اور صدہ کے علاقوں سے تو شروع کر دیا گیا تھا لیکن بعض قبائل میں اختلافات کی وجہ سے کچھ علاقوں کو واپسی متاثر ہونے کی وجہ سے لوگوں مشکلات کا سامنا ہے۔

تیراہ میں اس سال مارچ میں فوجی آپریشن سے کوئی 50 ہزار افراد نقل مکانی کرکے کوہاٹ ، پشاور اور مختلف قبائلی علاقوں کو منتقل ہو گئے تھے۔