خیبر پختونخوا میں پولیس نشانے پر، چھ ہلاک متعدد زخمی

چارسدہ دھماکے میں گیارہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنچارسدہ دھماکے میں گیارہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دو شہروں میں دس گھنٹوں میں پولیس پر دو حملے کیے گئے ہیں جن میں پانچ اہلکاروں سمیت چھ افراد ہلاک اور 28 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے حکومت کے ساتھ 40 روز قبل ہونے والی جنگ بندی میں مزید توسیع نہ کرنے کے اعلان کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز پر یہ تیسرا حملہ ہے۔

<link type="page"><caption> بڈھ بیر واقعات: حکومت کے لیے تشویش</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/03/110314_peshawer_govt_concern_nj.shtml" platform="highweb"/></link>

پہلا حملہ پشاور میں پولیس کی ایک گاڑی پر ہوا جس میں ایک اے ایس آئی سمیت پانچ اہلکار ہلاک ہوئے۔

یہ حملہ مضافاتی علاقے بڈھ بیڑ میں زنگلئی چیک پوسٹ کے قریب ہوا جب نامعلوم افراد نے پولیس کی ایک گاڑی پر حملہ کیا۔

پولیس کے مطابق پولیس موبائل گاڑی معمول کی گشت پر تھی کہ راستے میں گھات لگا کر بیٹھے ہوئے افراد نے ان پر شدید فائرنگ شروع کر دی۔

اس حملے میں اے ایس آئی اسلم، سپاہی ذاکر، لیاقت، سبحان الدین اور ڈرائیور نذر محمد ہلاک ہو گئے ہیں۔

بڈھ بیر پشاور کا بندوبستی علاقہ ہے اور یہ گورنر ہاؤس سے دس کلومیٹر سے زیادہ دور واقع نہیں ہے اور اگر صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی علاقوں کی جانب پشاور سے سفر کا آغاز کریں تو بڈھ بیر تک آبادی ہی آبادی ہے۔ بعض اوقات یہ دس کلومیٹر کا فاصلہ بھی طے کرنے کے لیے نصف گھنٹہ لگ جاتا ہے۔

بڈھ بیر کے دونوں جانب دس سے پندرہ کلومیٹر تک قبائلی علاقے منسلک ہیں۔ بڈھ بیر کے بعد متنی کا علاقہ اور اس کے بعد پھر درہ آدم خیل آتا ہے۔

چارسدہ دھماکہ

خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں پولیس وین پر ہونے والے ایک ریموٹ کنٹرول بم حملے میں ایک شخص ہلاک اور 28 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل کی صبح چارسدہ بازار میں نوشہرہ روڈ پر پیش آیا۔

پڑانگو پولیس سٹیشن کے انچارج امیر نواز خان نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ پولیس کی موبائل وین پولیس لائن جا رہی تھی کہ اس دوران فاروق اعظم چوک میں ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کا نشانہ بن گئی۔

انھوں نے کہا کہ حملے میں ایک شخص ہلاک اور 11 پولیس اہلکار اور 17 عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ بظاہر لگتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد سڑک کے کنارے کھڑے ایک موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے میں گاڑی تباہ ہوگئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دھماکے سے اردگرد واقع عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ جس جگہ دھماکہ ہوا ہے وہاں دن کے وقت لوگوں کا آنا جانا زیادہ رہتا ہے، تاہم صبح کا وقت ہونے کی وجہ سے وہاں زیادہ رش نہیں تھا۔