سندھ میں تعلیمی بدحالی کا ذمے دار کون؟

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ میں تعلیمی ایمرجنسی کے لیے سکھر سے شروع ہونے والا ’تعلیم بچاؤ‘ لانگ مارچ کراچی پہنچ گیا ہے۔
اس مارچ کا انتظام سندھ کی ترقی پسند قوم پرست جماعت عوامی جمہوری پارٹی نے کیا تھا۔
’تعلیم بچاؤ‘ مارچ کا آغاز 16 مارچ کو لاڑکانہ اور سکھر سے بیک وقت کیا گیا۔ یہ مارچ دریائے سندھ کے دائیں اور بائیں جانب آْباد شہروں اور دیہاتوں سے سفر کرتا ہوا 26 مارچ کو مورو میں یکجا ہوگیا۔
چار خواتین سمیت 30 افراد پر مشتمل یہ قافلہ مستقل چلتا رہا جب کہ راستے میں دوسرے افراد بھی رضاکارانہ طور پر شامل ہوتے رہے۔
تقربیاً 650 کلومیٹر کا سفر طے کر کے یہ مارچ 35 روز بعد سندھ کے دارالحکومت کراچی میں داخل ہوا۔
سندھ میں کئی قوم پرست جماعتوں نے لانگ مارچ کیے ہیں لیکن تعلیم کے لیے یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد مارچ تھا۔
عوامی جمہوری پارٹی کے رہنما ابرار قاضی کا کہنا ہے کہ سندھ میں امن و امان، صحت اور انفراسٹرکچر کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں لیکن ان کی جماعت یہ سمجھتی ہے کہ یہاں کا بنیادی مسئلہ تعلیم ہے کیونکہ موجودہ صنعتی دور کا اس وقت تک مقابلہ نہیں کیا جا سکتا جب تک نوجوان تعلیم یافتہ نہ ہوں۔
محکمۂ تعلیم کے اعداد وشمار کے مطابق سندھ میں 43 ہزار پرائمری سکول ہیں جن میں 30 لاکھ کے قریب بچے داخل ہیں جب کہ 99 ہزار اساتذہ انھیں پڑھانے پر مامور ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبائی وزیر تعلیم نثار کھوڑو نے پچھلے دنوں صوبائی اسمبلی کو بتایا تھا کہ صوبے میں چار ہزار سکول غیر فعال ہیں۔
صوبائی حکومت کے دعووں اور کوششوں کے برعکس تعلیم کی صورت حال پر سالانہ جاری ہونے والے سروے میں سندھ کے معیارِ تعلیم کو بدترین قرار دیا گیا تھا۔
عوامی جمہوری پارٹی کے رہنما ابرار قاضی سندھ میں تعلیم کی بدحالی کا ذمہ دار وہ پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے بقول: ’جب سے فی فرد فی ووٹ رائج ہوا ہے، سندھ کے لوگوں کی اکثریت پیپلز پارٹی کو ہی ووٹ دیتی آئی ہے، ہم نے اپنی امیدیں اور مستقبل پی پی پی کی جھولی میں ڈال دیا ہے لیکن بدقسمتی سے پیپلز پارٹی ہی کے دور میں سب چیزیں خراب ہوئی ہیں۔‘
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں متعین کیے گئے اہداف سنہ 2017 تک حاصل کر لیے جائیں گے۔
ابرار قاضی کہتے ہیں کہ حکومت مانتی ہے کہ تعلیم کے لیے ایک تحریک چاہیے لیکن پہلے وہ اس خواہش کا کھل کر اظہار تو کرے، اس کے بعد لوگوں سے یہ اپیل کریں کہ ہم اس سطح پر پہنچ گئے ہیں جہاں صرف انتظامی اقدامات سے تعلیم کی صورت حال بہتر نہیں بنائی جا سکتی۔
’ہم لوگوں کو یہ کہتے ہیں کہ اپنے سکول کی خود نگرانی کریں، وقت پر سکول شروع ہو، استاد بچوں کو پڑھائیں، پینے کے صاف پانی کی سہولت اور واش روم دستیاب ہو۔ یہ چھوٹے چھوٹے بنیادی معاملات ہیں کوئی راکٹ سائنس نہیں۔‘
سندھ میں تعلیم کے مسائل کو اجاگر کرنے کی ایک دوسری کوشش صوفی میوزک بینڈ سکیچز نے بھی کی ہے۔

نوجوان گلوکار سیف سمیجو نے ’مینا‘ کے نام سے ایک ویڈیو گیت تیار کیا ہے جس میں برابری کی بنیاد پر تعلیم پر زور دیا گیا ہے اور سہولیات کے فقدان کو اجاگر کیا گیا ہے۔
اس گیت میں دکھایا گیا ہے کہ ایک بچی مینا کے سکول کا پہلا دن ہے، اس کو والدہ تیار کرتی ہے، وہ سکول جاتے ہوئے راستے میں ندیا کو دیکھتی ہے جو بغیر کسی فرق کے درختوں، جانوروں اور انسانوں کو پانی فراہم کر رہی ہے۔ یہی تصور قائم کرتی ہوئی وہ آگے چلتی جاتی ہے۔
یہ خواب اور خیال لے کر مینا جب سکول پہنچتی ہے تو وہاں استاد نہیں ہوتا، عمارت بھی زبوں ہوتی ہے، لگتا ہے جیسے یہاں کوئی آیا ہی نہیں تھا۔ یہ دیکھ کر وہ کچھ دیر کے لیے مایوس ہو جاتی ہے، لیکن پھر یکدم اس کیفیت سے نکل آتی ہے اور اپنی گڑیا کو طالب علم بنا کر پڑھانا شروع کر دیتی ہے۔
اگلے منظر میں مینا بڑی ہو چکی ہے اور وہ سکول کی ذمہ داری سنبھال لیتی ہے، اب وہاں جو بچی آتی ہے اس کو مایوسی نہیں ہوتی۔
سیف سمیجو کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ تصور پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایک ایسی دنیا ہو جہاں انسانیت اور انصاف ہو، بچے صرف سکول نہ جائیں بلکہ ایسا سکول ہو جہاں بچے اچھے انسان بنیں اور انھیں مذہب، فرقے اور سماجی رتبے کی تفریق نہ سکھائی جائے۔







