پٹواری کی نیب کو دو کروڑ سے زیادہ کی پیشکش

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں ایک پٹواری نے اپنی رہائی کے لیے قومی احتساب بیورو کے حکام کو دو کروڑ تیس لاکھ روپے مفاہمت کے طور پر دینے کی پیشکش کی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں مزید پٹواریوں کے خلاف بھی اس وقت انکوائری جاری ہے۔
نیب حکام نے بتایا ہے کہ پٹواری کو چند روز پہلے احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں نیب کی درخواست پر عدالت نے انھیں مزید 10 روز کے ریمانڈ پر نیب حکام کے حوالے کر دیا ہے ۔
نیب حکلام کے مطابق پٹواری سعید خان کی جائیداد ان کے وسائل سے کہیں زیادہ ہے جس پر ان کے خلاف انکوائری شروع کی گئی اور حراست میں لے لیا گیا تھا۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ ان کے ملکیت میں بنگلہ اور زرعی اراضی ہے جبکہ ایسی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد بھی ہے جو انھوں نے دیگر لوگوں کے ناموں یا فرضی ناموں پر لے رکھی ہے ۔
پٹواری سعید خان کے بارے میں ذرائع نے بتایا ہے کہ انھوں نے ایک درخواست میں نیب کو دو کروڑ 30 لاکھ روپے واپس کرنے کا کہا ہے لیکن نیب حکام اس وقت یہ انکوائری کر رہے ہیں کہ ان کے پاس ان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائداد کتنی ہے۔
نیب حکام کے لیے یہ ایک حیران کن امر تھا کہ ایک پٹواری اتنی بڑی رقم خود واپس کرنے کو تیار ہوگیا ہے۔
نیب حکام نے بتایا ہے کہ چار مزید پٹواریوں کے خلاف انکوائری جاری ہے اور جیسے ہی کچھ شواہد ملیں گے تو پھر انھیں بھی حراست میں لیا جائے گا ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قومی احتساب بیورو خیبر پختونخوا میں دیگر محکموں کے بدعنوان افسران کے خلاف بھی انکوائریاں جاری ہیں۔
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے ریونیو کے محکمے میں پٹواریوں اور دیگر عملے کے خلاف محکمے کی سطح پر بھی کارروائیاں کی ہیں اور ایسی اطلاعات ہیں کچھ پٹواریوں کو معطل کیا گیا ہے جن کے خلاف سرکاری سطح پر بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ ریونیو کے محکمے کے حکام کے مطابق اس مرتبہ مالیاتی وصولی کا ہدف وقت سے پہلے حاصل کر لیا گیا ہے ۔







