اسلحہ سکینڈل:سابق وزیراعلیٰ کے بھائی گرفتار

اسلحے اور گاڑیوں کی خریداری کا ٹھیکہ پسندیدہ افراد کو دیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناسلحے اور گاڑیوں کی خریداری کا ٹھیکہ پسندیدہ افراد کو دیا گیا تھا
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

قومی احتساب بیورو نے خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کے بھائی غزن ہوتی کو کروڑوں روپے کے اسلحہ خریداری سکینڈل میں گرفتار کر لیا ہے۔

عدالت نے اسلحہ کی خریداری میں خورد برد کرنے کے الزام میں گرفتار سابق آئی جی خیبر پختونخوا ملک نوید اور رضا علی خان کی درخواست ضمانت بھی مسترد کر دی ہے۔

نیب کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سابق وزیراعلی کے بھائی غزن خان ہوتی نے عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کروائی تھی۔

منگل کو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مظہر عالم اور جسٹس ملک منظور پر مشتمل دو رکنی بینج نے ملزم کی طرف سے ضمانت میں توسیع کےلیے دائر کردہ درخواست کی سماعت کی۔

عدالت عالیہ نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر ملزم کی درخواست خارج کر دی جس پر انہیں احاطۂ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں قومی احتساب بیورو کے اہلکاروں نے ملزم کو تفتیش کےلیے حراستی مرکز منتقل کر دیا۔

نیب کے ذرائع کے مطابق ملزم غزن خان ہوتی پر الزام ہے کہ انہوں نے اسلحہ کی خریداری میں تقریباً 20 کروڑ روپے بطور کمیشن لیے۔

،تصویر کا ذریعہreuters

فاضل بینچ نے اسلحہ سکینڈل میں پہلے سے گرفتار سابق انسپکٹر جنرل پولیس ملک نوید اور ایک اور ملزم رضا علی خان کی طرف سے ضمانت پر رہائی کےلیے دائر کردہ درخواستوں کو بھی مسترد کردیا۔

خیال رہے کہ صوبائی حکومت نے محکمۂ پولیس کی درخواست پر صوبے میں شدت پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلحے اور گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دی تھی اور اس مقصد کےلیے سات ارب روپے جاری کیے گئے تھے۔

تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ اسلحے اور گاڑیوں کی خریداری کا ٹھیکہ پسندیدہ افراد کو دیا گیا جنھیں اس شعبے میں کوئی تجربہ حاصل نہیں تھا جبکہ رقم بھی پیشگی ادا کی گئی تھی۔

قومی احتساب بیورو نے اس سکینڈل میں ملوث دو ملزمان بجٹ آفیسر جاوید خان اور اسلحہ فراہم کرنے والے ٹھکیدار ارشد مجید کو پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے۔

خیال رہے کہ اس سکینڈل کے مرکزی ملزم ملک نوید تقریباً تین سال تک عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کے دوران خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ رہ چکے ہیں اور وہ ریٹائرمنٹ تک اس عہدے پر فائض رہے۔