پشاور: سابق آئی جی پولیس کو جیل بھیج دیا گیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پشاور کی احتساب عدالت نے سابق انسپیکٹر جنرل پولیس ملک نوید کو اسلحہ خریداری میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
قومی احتساب بیورو کی جانب سے ملک نوید کے خلاف بدھ کو مزید 14 روز کے ریمانڈ کی درخواست کی گئی تھی جسے احتساب عدالت کے جج ولایت علی خان گنڈہ پور نے مسترد کرتے ہوئے ملک نوید کو جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
ملک نوید کی جانب سے عدالت میں بیرسٹر ظہور الحق، لطیف آفریدی ایڈووکیٹ اور وکلا کا پینل پیش ہوا تھا۔
بیرسٹر ظہور الحق نے اپنے موکل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ نیب حکام ان کے موکل کا مختلف وقفوں کے دوران 55 دن کا ریمانڈ حاصل کر چکے ہیں لیکن اس مقدمے میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ملک نوید کی جانب سے پلی بارگین کی کوششیں ہو رہی ہیں لیکن اب تک اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک نوید نیب کو آٹھ کروڑ روپے دینے کے لیے تیار ہیں۔
اس بارے میں ملک نوید کے وکیل لطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے اپنے موکل سے اس بارے میں پوچھا تو ملک نوید نے بتایا کہ وہ شدید ذہنی دباؤ میں تھے اور ان سے اسی حالت میں یہ تحریری بیان لکھوایا گیا۔
گذشتہ ہفتے بھی نیب کے وکیل نے ملک نوید کا 14 روز کا ریمانڈ حاصل کرنے کی درخوست کی تھی لیکن عدالت نے صرف پانچ روز کا ریمانڈ دیا تھا۔
سابق انسپیکٹر جنرل پولیس کو گذشتہ سال نومبر میں احتساب بیورو نے گرفتار کیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ ان کے دور میں اسلحہ گاڑیوں اور دیگر سکیورٹی آلات کی خریداری کے لیے قائم پرچیز کمیٹی نے بڑے پیمانے پر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں کیں۔ یہ خریداریاں سنہ 2008 اور 2009 میں کی گئیں تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اس خریداری میں اس وقت کے دیگر سیاسی رہنما اور پولیس افسران ملوث تھے۔
نیب نےگذشتہ ہفتے سابق دور کے ایک مشیر کو بھی حراست میں لیا تھا۔
حکام کے مطابق اس خریداری کے لیے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اور اپنے من پسند ٹھیکےداروں کو ٹھیکے دیے گئے تھے جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا تھا۔







