گھر سے قبر تک کا سفر

نصیر نے کہا تھا کہ وہ جلد واپس آ جائیں گے لیکن وہ نہیں آئے: نصیر کی بیوی
،تصویر کا کیپشننصیر نے کہا تھا کہ وہ جلد واپس آ جائیں گے لیکن وہ نہیں آئے: نصیر کی بیوی
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، آواران

کھلے میدانی علاقے میں خانہ بدوشوں جیسی جھگیوں پر مشتمل چھوٹے سے گاؤں میں ایک لڑکی اپنی کمسن بچی کو پالنے میں جھولا دے رہی تھی۔

چند قدم دور ایک کمرے میں لوگ دعا کے لیے آ رہے ہیں، جس میں ایک دعائے مغفرت تو دوسری باحفاظت واپسی کے لیے کی جا رہی ہے۔

صوبہ بلوچستان کے علاقے آواران سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع پیراندر گاؤں کے رہائشی قلندرانی خاندان کے لیے عید قرباں کا دن زلزلہ لے کر آیا۔ اس روز پانچ ماہ کی ماہ رنگ کے والد نصیر قلندرانی اپنے بڑے بھائی محمد عمر کے ساتھ آواران بازار گئے تھے لیکن پھر ان دونوں واپس نہیں لوٹے۔

نصیر قلندرانی کی بیوی بتاتی ہیں کہ نصیر نے کہا تھا کہ وہ جلد واپس آ جائیں گے لیکن وہ نہیں آئے۔ انھیں معلوم نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا، زباد نے ٹیلی فون پر رابطے کیے لیکن کچھ معلوم نہیں ہو سکا اور ایک دن زباد نصیر کی لاش لے کر گھر پہنچا اور بتایا کہ نصیر کو پکڑ کر خضدار میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

نصیر قلندرانی کی لاش رواں سال 25 جنوری کو خضدار کے علاقے توتک سے برآمد ہونے والی اجتماعی قبر سے ملی تھی، ان کے بھائی زباد میڈیا میں نصیر اور ان کے کزن قادر بخش کا نام آنے کے بعد شناخت کے لیے خضدار ہپستال پہنچے تھے۔

زباد بتاتے ہیں کہ 12 لاشیں تھیں اور تمام لاشوں کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ نصیر کی لاش کو انھوں نے فوری پہچان لیا، کیونکہ جب وہ لاپتہ ہوئے تھے تو ان کے کپڑوں کا رنگ انھیں یاد تھا حالانکہ نصیر کا چہرہ بہت مسخ تھا لیکن اس کے باوجود پہچان لیا۔ انھوں نے خود نصیر کی آنکھوں سے پٹی کھولی تھی جو لاشیں ہسپتال میں لانے کے باوجود کسی نے نہیں ہٹائی تھی۔

خود نصیر کی آنکھوں سے پٹی کھولی تھی جو لاشیں ہسپتال میں لانے کے باوجود کسی نے نہیں ہٹائی تھی: زباد
،تصویر کا کیپشنخود نصیر کی آنکھوں سے پٹی کھولی تھی جو لاشیں ہسپتال میں لانے کے باوجود کسی نے نہیں ہٹائی تھی: زباد

زباد نے بڑے بھائی کی بھی شناخت کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ بقول ان کے انھوں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے کہ محمد عمر کی لاش اس میں شامل ہوں، لیکن انھیں نہیں ملی اور انھوں نے زیادہ شک و شبہ بھی نہیں کیا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کی لاش بھی ہو لیکن تمام لاشیں اتنی مسخ تھیں کہ وہ پہچان نہیں سکے۔

تعلیم سے محروم 23 سالہ نصیر ابوظہبی میں چرواہے کا کام کرتے تھے، جس کا ثبوت ان کے پاسپورٹ پر درج ہے۔ جبری گمشدگی سے چند ماہ پہلے وطن واپس آ کر انھوں نے گاؤں میں پرچون کی دکان کھولی تھی۔

نصیر کی لاش ملے تو دو ماہ ہو چکے ہیں لیکن محمد عمر کا تاحال کوئی پتہ نہیں۔ اسی علاقے سے بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر یعقوب بزنجو منتخب ہوئے ہیں۔

زباد کہتے ہیں کہ انھوں نے تمام دروازے کھٹکھٹائے ہیں، ان میں جتنی طاقت اور رسائی تھی، استعمال کر چکے ہیں۔

نصیر اور محمد عمر کی کسی سیاسی جماعت سے وابستگی نہیں تھی، توتک کے جس علاقے سے اجتماعی قبر ملی، وہاں قلندرانی قبیلہ آباد ہے۔ زباد کہتے ہیں کہ ان کا تعلق تو قلندرانی قبیلے سے ضرور ہے لیکن توتک سے ان کا کبھی کوئی واسطہ نہیں رہا۔

انسانی حقوق کی مقامی اور بین الاقوامی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ انھیں توتک جانے کی اجازت دی جائے۔ ان تنظیموں کو شبہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ لاشیں بلوچستان سے جبری لاپتہ افراد کی ہوں۔

انسانی حقوق کمیشن بلوچستان کے سربراہ طاہر حسین کہتے ہیں کہ انھوں نے بلوچستان کے چیف سیکریٹری اور ہوم سیکریٹری کو تحریری درخواست دی تھی، جس کی رسید ان کے پاس موجود ہے لیکن آج تک انھیں اجازت نہیں ملی۔

طاہر حسین کہتے ہیں کہ جب ڈاکٹر مالک کی حکومت بنی تو انھیں نے توقع تھی کہ مڈل کلاس کے سیاست دان آئے ہیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کم ہوں گی، لیکن اس کے بعد تو لاشیں ملنے میں اضافہ ہو گیا۔

نصیر قلندرانی کی پانچ ماہ کی بیٹی ہے
،تصویر کا کیپشننصیر قلندرانی کی پانچ ماہ کی بیٹی ہے

بلوچستان حکومت نے ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی ٹریبیونل قائم کیا ہے، جس کو سول جج کے اختیارات حاصل ہیں۔ صوبائی حکومت نے تحقیقات کی تمام تر ذمے داری اسی ٹریبیونل پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیا ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ بلوچستان میں جن کے پیارے لاپتہ ہیں وہ اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کرائیں۔ اب یہ معاملہ عدالت میں ہے اور یہ ان کا کام ہے کہ وہ کتنے لوگوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کرتے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت کا واضح موقف ہے کہ ہم غیر جانبدارانہ تحقیقات چاہتے ہیں۔

بلوچستان حکومت نے لاپتہ افراد کے لواحقین اور ہلاک ہونے والوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا اعلان کیا تھا، لیکن تاحال اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے، جس نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور لواحقین کے ذہنوں میں شکوک و شبہات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ایشین ہیومن رائٹس کا دعویٰ ہے کہ توتک کے علاوہ دیگر علاقوں سے بھی اجتماعی قبریں برآمد ہوئی ہیں جن میں 150 سے زائد لاشیں ملی ہیں۔

تاہم بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک اس کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک صرف ایک ہی قبر برآمد ہوئی ہے۔