خضدار اجتماعی قبر: ’ذمہ داروں کے تعین میں دو ماہ لگیں گے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک اجتماعی قبر کی دریافت پر از خود نوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ لاشوں کے ڈی این اے کے جائزے میں پانچ ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے، جبکہ ذمہ داروں کے تعین کے لیے جوڈیشل انکوائری میں بھی دو ماہ لگیں گے۔
عدالت نے مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ہے۔
یہ بات بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ اسد رحمان گیلانی نے جمعے کو جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس محمد اطہر سعید پر مشمتمل سپریم کورٹ کے ایک بینچ کو خضدار میں اجتماعی قبروں کے واقعے کی تحقیقات کے مقدمے کی سماعت کے دوران بتائی۔
ان کا کہنا تھا کہ 13 لاشوں اور ان کے ممکنہ رشتہ داروں کے 44 نمونے لیے گئے ہیں جن کے ڈین این اے کے نتائج کے لیے پانچ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ یہ نمونے لاہور میں لیبارٹری کو بھیج دیے گئے ہیں۔
عدالت میں وائس آف بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے 25 افراد کی لاشوں کے ملنے کی بات کی تھی۔ عدالت نے نصر اللہ بلوچ کو ہدایت دی کہ وہ تحقیقاتی کمیشن سے اس بابت شواہد کے ساتھ رابطہ کریں۔
حکومت بلوچستان کی جانب سے ہائی کورٹ کے جج جسٹس نور محمد مزکنزئی کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیشن کے بارے میں بھی بنچ کو بتایا گیا کہ اسے شواہد اکٹھے کرنے اور ان ہلاکتوں میں ملوث افراد کے تعین میں دو ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے یکم فروری کو اجتماعی قبر سے 13 مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی پر از خود نوٹس لیا تھا۔ یہ نوٹس وائس فار بلوچستان مسنگ پرسنز کے چیئرمین کے بیان کی بنیاد پر لیا گیا تھا، جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اجتماعی قبر سے ملنے والی مسخ شدہ لاشوں میں سے تین لاپتہ افراد کی تھیں۔
چیف جسٹس نے چار فروری کو آئی جی بلوچستان اور خضدار کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا تھا۔ تاہم اس موقعے پر ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت نے بھی خضدار میں اجتماعی قبر کے معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دیا ہے، جس کے سربراہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس نور محمد مزکنزئی ہیں۔ اجتماعی قبر کی نشاندہی چرواہوں نے کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے لاشوں کی برآمدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ مقتولین اور ان کے قاتلوں کی شناخت کو یقینی بنایا جائے اور اس واقعے کے اصل حقائق جاننے اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔
اس سے قبل حکومت بلوچستان نے کہا تھا کہ اجتماعی قبروں سے برآمد ہونے والی لاشوں کی وجہِ ہلاکت اور شناخت جاننے کے لیے ان کے ڈی این اے کے نمونے لے لیے گئے ہیں جس کی ابتدائی رپورٹ چھ فروری کو متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق دو لاشوں کی شناخت ضلع آواران کے رہائشیوں قادر بخش ولد بیان اور نصیر احمد ولد بیان کے ناموں سے ہو چکی ہے اور جنھیں قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔







