خضدار میں اجتماعی قبر کا معائنہ

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے دریافت ہونے والی اجتماعی قبر کی تحقیقات کرنے والے ٹریبونل کے جج نے جمعرات کو خضدار کے علاقے توتک میں اس مقام کا معائنہ کیا ہے جہاں سے 13 افراد کی تشدد زدہ لاشیں بر آمد ہوئی تھیں۔
دوسری جانب صوبے کے مرکزی شہر کوئٹہ اور پشین سے مزید چار افراد کی تشدد زدہ لاشیں بر آمد ہوئی ہیں۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹریبونل کے جج مسٹر جسٹس محمد نور مسکانزئی نے انتہائی سخت سیکورٹی میں جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔
اہلکار نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے تین سو گولیوں کے خول بھی ملے ہیں جو شاید ان افراد کو ہلاک کرنے کے لیئے استعمال کیئے گئے ہوں جن کی لاشیں اجتماعی قبر سے ملی تھیں۔
ٹریبونل نے خضدار میں سات افراد کے بیانات کو بھی ریکارڈ کر لیا جن کا تعلق خضدار اور آواران سے تھا۔
اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان شہک بلوچ اس ٹریبونل کی معاونت کر رہے ہیں۔
ان کے کوئٹہ میں واقع گھر میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب 6افراد داخل ہوئے تھے۔
بظاہر یہ افراد ان کے گھر میں چوری یا ڈکیتی کی غرض سے داخل ہوئے تھے لیکن شہک بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ ا ن کی حرکات و سکنات سے یہ لگتا تھا کہ وہ چوری یا ڈکیتی کی غرض سے نہیں آئے تھے بلکہ ان کا مقصد دھمکانا یا خوفزدہ کرنا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ شور سننے کے بعد محلے کے لوگو ں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی جس کے باعث گھر پر آنے والے افراد فرار ہوگئے تاہم پولیس نے قریبی چوک سے ان میں سے دو افراد کو گرفتار کر لیا۔
سیٹلائٹ ٹاؤ ن پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ان میں سے مزید تین افراد کو جمعرات کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔
ادھر کوئٹہ اور اس کے گردونواح سے مزید چار افراد کی تشدد زدہ لاشیں بر آمد ہوئی ہیں۔
ان میں سے ایک شخص کی لاش پشین کے علاقے بوستان سے ملی۔
پشین انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے شخص کے سینے میں گولیاں ماری گئی تھیں۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے شخص کے ہاتھ پلاسٹک کی ہتھکڑیو ں میں بندھے ہوئے تھے جن پر میڈ ان یو ایس اے لکھا ہوا تھا۔
دوسرے شخص کی لاش کوئٹہ کے علاقے خروٹ آباد سے ملی جبکہ دو دیگر افراد کی لاشیں گزشتہ شب مشرقی بائی پاس کے علاقے سے ملیں جو کہ ناقابل شناخت ہیں۔
ادھر شورش سے متاثرہ ڈیرہ بگٹی میں فرٹیئر کور بلوچستان نے دو علاقوں چھبدر اور ڈے وڈھ میں سرچ آپریشن کے دوران چھ افراد ہلاک کر نے کا دعوی کیا ہے ۔
ایف سی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز کے مطابق یہ کارروائی ڈیرہ بگٹی انتظامیہ اور امن فورس کے ہمراہ کی گئی۔
پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد گیس پائپ لائنوں کو اڑانے اور دیگر تخریبی کاروائیوں میں ملوث تھے۔







