خضدار: اجتماعی قبر والے علاقے سے مزید تین لاشیں برآمد

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صو بہ بلوچستان کے ضلع خضدار کے اجتماعی قبروں والے علاقے توتک سے اتوار کو مزید تین افراد کی لاشیں ملی ہیں۔
توتک کے اسی مقام سے 24 جنوری کو ایک اجتماعی قبر سے 13 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں اور ان تین لاشوں کی برآمدگی کے ساتھ یہاں سے ملنے والی لاشوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔
بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ و قبائلی امور بلوچستان اسدگیلانی نے مزید تین لاشوں کی بر آمدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ان لاشوں کی موجودگی کی اطلاع ایک مقامی شخص نے ڈپٹی کمشنر خضدار کو دی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کے اہلکاروں نے توتک میں واقع اس جگہ کا معائنہ کیا اور کھدائی کی تو وہاں سے تین لاشیں برآمد ہوئیں۔
لیویز ذرائع کے مطابق کھدائی کے دوران دو لاشیں ایک جگہ اور تیسری اس سے کچھ فاصلے پر ملیں۔ تینوں لاشوں کو سخت سکیورٹی میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتا ل خضدار منتقل کردیا گیا۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق یہ لاشیں ناقابل شناخت ہیں اور چھ ماہ پرانی ہیں۔ ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ دو لاشوں کے محض ہڈیوں کے ڈھانچے رہ گئے ہیں جبکہ ایک لاش پر کچھ گوشت ہے۔
سیکریٹری داخلہ نے بتایا ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ان کی شناخت کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ ضلع خضدار کے علاقے توتک کے اسی مقام سے 24 جنوری کو ایک اجتماعی قبر دریافت ہوئی تھی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق اس اجتماعی قبر سے13 افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس اجتماعی قبر کی دریافت کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت بلوچ قوم پرست تنظیموں اور جماعتوں نے احتجاج بھی کیا تھا۔ بلوچ قوم پرست جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ وہاں سو سے ڈیڑھ سو تک افراد کی لاشیں موجود ہیں۔
بلوچستان حکومت نے اجتماعی قبر اور وہاں سے لاشوں کی برآمدگی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل عدالتی ٹریبیونل قائم کیا تھا۔
ٹریبیونل سے اجازت ملنے کے بعد 24 جنوری کو ملنے والی 13 میں سے11 ناقابل شناخت لاشوں کی مقامی انتظامیہ نے خضدار شہر کے مقامی قبرستان میں اجتماعی تدفین کی تھی جبکہ جن دو لاشوں کی شناخت ہوئی تھی انہیں ان کے رشتہ داروں کے حوالے کیا گیا تھا۔ جن دو افراد کی شناخت ہوئی تھی کا تعلق آواران کے علاقے سے تھا۔
گذشتہ روز بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد نور مسکانزئی پر مشتمل عدالتی ٹریبیونل نے توتک سے اجتماعی قبر کی دریافت سے متعلق گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔ ابھی کمیشن کی تحقیقات جاری ہیں کہ توتک میں اسی مقام سے مزید تین افراد کی لاشیں ملی ہیں۔







