’تحفظ پاکستان بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
تحریک انصاف نے پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر پیر کے روز سادہ اکثریت سے پاس ہونے والے متنازع تحفظ پاکستان (پی پی او) کے بل کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تحریک انصاف کے رکن اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی پی او پر اپوزیشن کا موقف نہیں سنا گیا اور نہ ہی ترامیم پر بات کا موقع دیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ دو سیاسی جماعتوں نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے میں تحریک انصاف کا ساتھ دینے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
’اپوزیشن کی جماعتوں کے ساتھ مل کر اس مسلئے کو عدالت عظمیٰ میں لے کر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، اس میں جو بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں، ہم اسے دیگر جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی نے اس پر اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے جب کہ اور دیگر جماعتوں کے ساتھ بھی رابطے کیے جا رہے ہیں۔‘
پیر کے روز اپوزیشن سمیت حکومتی اتحادیوں نے بھی پی پی او کو عجلت میں پاس کروانے کے فیصلے پر حکومت سے احتجاج کیا اور پارلیمنٹ سے واک آوٹ کیا تھا۔
حزب اختلاف کی جماعتوں نے کہا ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی اکثریت ہونے کے باعث اس بل کومنظور ہونے نہیں دیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس بل کا مقصد دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کے عمل میں تیز رفتاری کو یقینی بنانا ہے۔
بل کے مندرجات میں کہا گیا ہے دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کے لیے خصوصی عدالت قائم ہو گی اور ایسے مقدمات کی سماعت تیزی سے کی جائے گی۔ اس خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف 15 دن میں سپریم کورٹ میں اپیل کی جا سکے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ دہشت گردی کے مقدموں کی تفتیش مشترکہ ٹیم کرے گی جبکہ بل کے تحت کسی بھی مشتبہ دہشت گرد کو 90 دن کے لیے برائے تفتیش حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔
بل کے مطابق کسی بھی مقدمے کی کارروائی آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10 سے متصادم نہیں ہوگی۔
جمعیت علمائے اسلام ف نے حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود بل کی مخالفت کی ہے۔
لورالائی سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی مولانا امیر زمان نے بل کو سول مارشل لا کے مترادف قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’جمعیت اس طر ح آنکھیں بند کر کے حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتی اور موجودہ بل ایجنسیوں کی پیداوار ہے۔ ان ہی ایجنسیوں نے مسلم لیگ ن سے کہا ہے کہ وہ جا کر اسمبلی سے یہ بل پاس کروا لیں۔‘
ادھر ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ تحفظ پاکستان بل کی وہ مخالفت کریں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے 22 جنوری کو لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ وہ حکومت کے پیش کردہ تحفظِ پاکستان آرڈیننس کا جائزہ لے گی اور بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہونے کی صورت میں اس سے متعلق فیصلہ بھی دے سکتی ہے۔
پاکستان کے صدر نے اکتوبر 2013 میں اس آرڈینس کو جاری کیا تھا۔







