’دوست‘ کے تحفے کے بعد تھری جی لائسنس سے امید

حکومت کی جانب سے کمرشل بینکوں سے قرض لینے میں بھی دوسری سہ ماہی میں اضافہ ہوا
،تصویر کا کیپشنحکومت کی جانب سے کمرشل بینکوں سے قرض لینے میں بھی دوسری سہ ماہی میں اضافہ ہوا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے مرکزی بینک نے اپنی ششماہی رپورٹ میں کہا ہے کہ مارچ 2014 میں سٹیٹ بینک کے ذخائر پر دباؤ خاصا کم ہوگیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مارکیٹ نے خلیج تعاون کونسل کے ایک رکن ملک سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم غیر متوقع طور پر ملنے پر بہت مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں بازار مبادلہ کے احساسات میں تبدیلی کے بعد پاکستانی روپیہ جنوری اور فروری 2014ء کے مہینوں میں مستحکم رہا اور مارچ میں اس کی قیمت خاصی بڑھ گئی۔

یاد رہے کہ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ ایک برادر اسلامی ملک نے پاکستان کو ڈیڑھ ارب بطور مدد فراہم کیے ہیں، حکومت نے اس ملک کا نام ظاہر نہیں کیا اور مرکزی بینک بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا نظر آتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال کی پہلی ششماہی کے آخر تک ملک کے معاشی اشاریوں میں واضح بہتری پیدا ہوگئی تھی، جس کے باعث نومبر کے بعد گرانی کا دباؤ گھٹ گیا اور زرمبادلہ کے ذخائر اور پاکستانی روپے کی مساوات پر دباؤ کم ہوا۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے کی اشیا سازی میں بہتری دکھائی دے رہی ہے جسے نجی شعبے کے قرض سے مزید سہارا مل رہا ہے اور جیسا کہ وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ جی ڈی پی کی شرح کے لحاظ سے مالیاتی خسارہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں کم ہوگیا ہے۔

مرکزی بینک نے اس بار بھی صورتحال میں بہتری کو تھری جی لائسنسوں کی نیلامی سے مشروط کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوسری ششماہی میں مالیاتی اور بیرونی حسابات میں بہتری کا انحصار تھری جی لائسنسوں کی نیلامی کی متوقع آمدنی اور اتحادی فنڈ کی رقوم کی آمد پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر متوقع بیرونی رقوم آگئیں تو اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر پورے سال کے ابتدائی تخمینے سے بڑھ سکتے ہیں۔

سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق کپاس کی پیداوار میں کمی کے باعث مالی سال میں جی ڈی پی کا ہدف حاصل کرنے کے امکانات متاثر ہوسکتے ہیں۔ تاہم بڑے پیمانے کی اشیا سازی بدستور مضبوط نمو کی حامل ہے جو ملک کی مجموعی اقتصادی نمو کے لیے اچھا شگون ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے کمرشل بینکوں سے قرض لینے میں بھی دوسری سہ ماہی میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت نے کمرشل بینکوں سے 188.1 ارب روپے حاصل کیے جبکہ پہلی سہ ماہی میں 179.1 ارب روپے کی خالص واپسی ہوئی تھی۔

مرکزی بینک کے مطابق حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ حد کے مطابق سٹیٹ بینک سے قرض گیری کو محدود نہیں کر سکی ہے۔

اگرچہ سٹیٹ بینک اپنے اس نکتے پر قائم ہے کہ پاکستان کے ملکی قرضے کو از سر متوازن کر کے طویل مدتی پیپر کی طرف لانا ضروری ہے تاہم مالی سال 14ء کی دوسری سہ ماہی میں بہتری کا رجحان تھا جو تیسری سہ ماہی میں برقرار ہے۔

اس سہ ماہی میں حکومت نے پی آئی بیز کے ذریعے 105.6 ارب روپے حاصل کیے جو چار سہ ماہیوں بعد جمع کی جانے والی بلندترین رقم تھی۔