’پاکستان نےسعودی پیسے کے بدلےکیا دیا ہے‘

سرتاج عزیز نے ارکان کو بریفنگ دی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسرتاج عزیز نے ارکان کو بریفنگ دی

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا یا سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی نے پیر کو ایک بند کمرے میں منقعد ہونے والے اجلاس میں سعودی عرب سے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد، پاکستان کے ایران سے سفارتی تعلقات اور چین میں ہونے والی دہشت گردی پر بات چیت کی۔

اجلاس کے شرکا نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ خارجہ امور کی کمیٹی کو وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی اور امور خارجہ، سرتاج عزیز اپنی بریفنگ میں اپوزیشن ممبران کو مطمئین کرنے اور ممبران کے سوالوں کے تسلی بخش جواب دینے ناکام رہے۔

اگرچہ کمیٹی کے ممبران کھل کر بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں لیکن جن سے بھی بات ہوئی ان کا یہی سوال تھا کہ کس بنیاد پر پاکستان کے دیرینہ دوست سعودی عرب نے اتنی مدد کی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے راہنما سینیٹر حاجی عدیل کہتے ہیں کہ ہمارے سوالات کے جوابات دیےگئے لیکن مطمئن نہ ہونے کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اس پیسے کے بدلے کیا دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سرتاج عزیز نے کمیٹی کو بتایا ہے کہ یہ پیسہ سعودی عرب نے دیا ہے جو قرض نہیں تحفہ ہے، واپس نہیں کرنا پڑے گا لیکن اس کے بدلے میں پاکستان شام کے حوالے سے اپنی پالیسی نھیں بدلے گا اور نہ ہی سعودی عرب کو شام کے لیے ہتھیار دیے جائیں گے۔

حاجی عدیل نے بتایا کہ ہماری کوشش ہے کہ کمیٹی کی اگلی ملاقات تک ہماری کوشش ہے کہ ایک ایسابل پاس کروا لیں جو حکومت کو پابند کرے کہ وہ بیرونی ممالک سے ہونے والے معاہدوں کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کی پابند ہو جائے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کی راہنما سیدہ صغری حسین امام نے کہا کہ ’خارجہ پالیسی تو مفادات پر ہی چلتی ہے فری لنچ تو کوئی نہیں دیتا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ جنرل مشرف کے دور میں پاکستان کو 20 ارب ڈالر امداد ملی تھی لیکن اس کے بعد سے آج تک ہماری معیشت کو 80 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

’یہ نہ ہو کہ ڈیرھ ارب ڈالر کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہم خانہ جنگی میں ملوث ہو جائیں اور اس سےپاکستان کی معیشت اور سماجی حالات مزید بدتر ہو جائیں۔‘

اے این پی کے راہنما سینیٹر حاجی عدیل نے یہ بھی بتایا کہ آج کے اجلاس میں سعودی عرب میں پھنسے ساڑھے چار ہزار پاکستانیوں کے بارے میں بھی بات ہوئی۔

رابطہ کرنے پر ایم کیو ایم کے راہنما سینیٹر طاہر مشہدی نے کہا کہ سرتاج عزیز ہمارے سوالوں کے تسلی بخش جوابات نہیں دے پائے اجلاس کے ان کیمرہ ہونے کی وجہ سے میں ابھی آپ کو تفصیلات نہیں بتاسکتا لیکن ہم پارلیمان میں اس موضوع پر بات کریں گے اپنے تحفظات پر وضاحت طلب کریں گے۔‘

خارجہ امور کے اجلاس میں صرف ڈیرھ ارب ڈالر کی مفت امداد زیر بحث نہیں رہی بلکہ اس میں ہمسایہ ملک ایران پر پاکستان کی پالیسی کا تذکرہ بھی ہوا۔

حاجی عدیل کہتے ہیں کہ شرکا نے ایران کی جانب سے گزشتہ دنوں سامنے آنے والی دھمکی آمیز بیان پر تشویش کا اظہار کیا جس میں ایران نے اپنے مغویوں کی رہائی کے لیے پاکستان کے اندر آ کر کارروائی کرنے کی دھمکی دی تھی۔

’سرتاج عزیز نے بتایا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم اگلے چند دنوں میں ایران جائیں گے۔ ایران کے بارے میں پاکستان کی پالیسی مثبت ہے بلکہ سعودی عرب خود ایران کے ساتھ اپنے تعلقات اچھے کر رہا ہے۔‘

کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے ایک قرار داد پیش کی جس میں ہمسایہ ملک چین میں دو ہفتے قبل پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کی گئی تھی۔

اس مذمتی قرارداد میں سینیٹر مشاہد حسین سید نے قرارداد میں حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی اس خبر کا نوٹس بھی لے جس میں چین کے علیحدگی پسند شرپسندوں گروہ ’ویگر‘نے دعوی کیا ہے کہ وہ افغانستان سے متصل پاکستان میں موجود اپنی کمین گاہوں سے چین کے خلاف کارروائیاں کریں گے اور اپنے ساتھیوں کی ہلاکت کا بدلہ لیں گے۔