ایران کے لیے بس سروس عارضی طور پر معطل

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستانی حکام کے مطابق شیعہ زائرین کو صوبہ بلوچستان سے ایران لے جانے والی بسوں کو سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر معطل کر دیا گیا ہے۔
منگل کو ایران سے آنے والے زائرین کی بس پر مستونگ کے علاقے میں بم حملے میں 25 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک اور زخمی افراد کا تعلق ہزار ہ قوم سے تھا۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کو 700 کلومیٹر لمبی ہائی وے ایران سے جوڑتی ہے جہاں شیعہ برادی کی کئی زیاارت موجود ہیں۔
ان زیارتوں کے لیے ایران جانے والے زائرین پر درجنوں خودکش اور سڑک کے کنارے نصب بموں سے حملے ہو چکے ہیں جن کی ذمہ داری انتہا پسند سنی گروہوں نے قبول کی ہے۔
صوبائی حکومت کے ایک سینیئر اہلکار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’ہم نے سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے تک عارضی طور پر اس ہائی وے پر بسوں کی آمدو رفت معطل کر دی ہے۔‘
بس سروس کی معطلی کے بعد ایرانی سرحد پر پھنس جانے والے درجنوں زائرین کو طیارے کے ذریعے کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق ان افراد کو 150 زائرین کو دالبندین سے ایک سی ون تھرٹی طیارے پر کوئٹہ لایا گیا۔
ڈپٹی کمشنر چاغی سیف اللہ کھیتران نے اے پی پی کو بتایا کہ سات کوچز پر سوار 300 زائرین ایران سے تقتان پہنچے تھے اور ان میں سے 150 کو کوئٹہ پہنچا دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر پاکستان کےصوبہ بلوچستان میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی اداروں کی کارروائی جاری ہے جس میں اب تک متعدد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
فرنٹیئر کور بلوچستان کے ایک ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک اس آپریشن میں 20 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
ترجمان نے بتایا ہے کہ کارروائی مستونگ کے علاقے کانک اور درین گڑھ میں کی جا رہی ہے۔
کارروائی میں اطلاعات کے مطابق نیم فوجی فرنٹیئر کور کے علاوہ انسداد دہشت گردی فورس اور لیویز اہل کار بھی حصہ لے رہے ہیں۔
انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سنہ 2013 میں 400 سے زیادہ شیعہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں شیعہ ہزاراہ برادی کے افراد بھی شامل ہیں۔







