راولپنڈی میں حالات کشیدہ، فوج کا گشت

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں عاشورۂ محرم کے بعد شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر بھی حالات سخت کشیدہ ہیں اور شہر میں فوج اور رینجرز نے گشت شروع کر دیا ہے۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق چہلم کے موقع پر حفاظتی انتظامات کے تحت ملک کے متعدد شہروں میں موبائل فون سروس بھی معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
راولپنڈی میں چہلم کا جلوس منگل کو برآمد ہونا ہے اور مقامی پولیس کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کے لیے متعدد علماء کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے جبکہ درجنوں مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
رواں برس عاشورہ کے موقع پر شہر میں راجہ بازار کے علاقے میں فرقہ وارانہ تشدد میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 11 افراد ہلاک ہوئے تھے اور بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچا تھا۔
اس واقعے کے بعد راولپنڈی میں کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا تھا۔
فسادات کے دوران ایک مدرسے کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا اور اب اسی مدرسے کی انتظامیہ نے پیر کی شام سے وہاں دو روزہ کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کر رکھا ہے۔ مذہبی تنظیم اہلِ سنت والجماعت نے اس کانفرنس کی حمایت کی ہے۔
یہ کانفرنس جس مقام پر منعقد ہونی ہے وہیں سے منگل کو چہلم کا جلوس گزرنا ہے اور پنجاب حکومت پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ جلوس کا راستہ تبدیل نہیں کیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نے جلوس سے قبل راجہ بازار کے علاقے کو سِیل کر دیا ہے جبکہ راولپنڈی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے کانفرنس کے التوا کے معاملے پر منتظمین سے بات چیت کی جا رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
راولپنڈی کے ڈی سی او نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وہ منتظمین کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اپنی کانفرنس چہلم کے بعد کر لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تاحال بات چیت جاری ہے اور ’بہتری کی امید رکھنی چاہیے۔‘
پولیس ذرائع نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا ہے کہ اتوار کی شب کو شہر کے مختلف علاقوں سے آٹھ مذہبی علما کو بھی حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ 100 سے زیادہ دیگر افراد بھی زیرِ حراست ہیں۔
شہر میں چہلم کے جلوس کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ نے فوج سے مدد کی درخواست کی تھی جس کے بعد پیر کو شہر کے حساس علاقوں میں فوج اور رینجرز کے جوانوں نے گشت کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ راولپنڈی سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں چہلمِ امام حسین کے موقع پر دس ہزار سے زیادہ فوجی اہلکار امن و امان کے قیام کے لیے سول انتظامیہ کی مدد کریں گے۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ملک کی ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بھی پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت کی درخواست پر چوبیس دسمبر کو چہلم کے موقع پر ملک کے 31 شہروں میں صبح آٹھ بجے سے موبائل فون سروس معطل رہے گی۔
لاہور

راولپنڈی کے علاوہ صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور سمیت دیگر شہروں میں بھی چہلم کے موقعے پر فرقہ وارانہ کشیدگی موجود ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ جعفری کے مطابق لاہور میں چہلم کے جلوس کی سکیورٹی کے لیے پندرہ ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا جا رہا ہے۔
یہ جلوس منگل کی صبح ساڑھے آٹھ بجے برآمد ہونا ہے اور اس کے مقررہ راستے کے آس پاس تمام سڑکوں کو کنٹینرز لگا کر بند کیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق جلوس کے داخلی اور خارجی راستوں پر میٹل ڈٹیکٹرز اور واک تھرو گیٹس نصب کیے جا رہے ہیں جبکہ تین سو سی سی ٹی وی کیمروں سے جلوس کی نگرانی کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
وزیراعلی شہباز شریف نے اعلیٰ پولیس اہلکاروں کو اپنے علاقوں میں چہلم کے جلوس کے دوران خود موجود رہنے اور نگرانی کرنے کی سختی سے ہدایت کی ہے۔
لاہور میں دو روز پہلے ہربنس پورہ کے علاقے سے پولیس نے چھ مبینہ دہشتگردوں کو بھی گرفتار کیا تھا جن سے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔
پولیس حکام نے دعوی کیا تھا کہ ان افراد نے چہلم کے موقعے پر لاہور میں فرقہ وارانہ دہشتگردی کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔







