وزیراعظم یقینی بنائیں کہ اب کوئی جبری گمشدگی نہ ہو: سپریم کورٹ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیرِاعظم پاکستان اور خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ اور گورنر کو 35 لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے۔
ملاکنڈ کے حراستی مرکز سے لاپتہ ہونے والے 35 افراد کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ملک میں غیر اعلانیہ حراست کا کوئی قانون موجود نہیں ہے اور حکومت جبری گمشدگیاں روکنے سے متعلق قانون سازی کرے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لاپتہ افراد کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں کیا گیا اور 35 میں سے اب تک صرف 7 افراد کو پیش کیا گیا ہے اور بقیہ افراد کی بازیابی سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا جائے۔
عدالت نے 35 لاپتہ افراد کو حراست میں رکھنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ ان افراد کی حراست خفیہ تھی۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ ایجنسیوں کے پاس لوگوں کو غیر قانونی طور پر اپنی حراست میں رکھنے کا اختیار نہیں ہے اور صرف پولیس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی شخص کو شک کی بنیاد پر حراست میں لیں۔ ’دیگر ادارے ایسا نہیں کر سکتے۔‘

عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو ادارے یا سکیورٹی اہلکار ان افراد کو زیرِ حراست رکھنے یا اغوا کرنے میں ملوث ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت نے وزیراعظم کو ہدایت کی ہے کہ وہ مستقبل میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی ادارے کی جانب سے افراد کو جبر ی طور پر حراست میں نہ رکھا جائے ۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان لاپتہ افراد سے متعلق وزارت دفاع کی وضاحتوں پر یقین کرنا مشکل ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران ایڈیشنل سیکریٹری دفاع پہلے تو ان افراد کی سکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہونے سے انکار کرتے رہے اور پھر وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ افراد کو عدالت میں پیش بھی کیا گیا۔
اُنہوں نے کہا کہ اس مقدمے کی سماعت سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ملاکنڈ کے حراستی مرکز سے 35 افراد کو فوجی اہلکار اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے موقف کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے جنگ زدہ علاقوں میں فوج کو فوجداری مقدمات کی سماعت کرنے کا اختیار ہے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد جبری طور پر گمشدہ ہونے والے گیارہ قیدیوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ بھی سنا دیا ہے جس میں حکومت کو اُن چار قیدیوں کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے جو اس عرصے کے دوران ہلاک ہوگئے تھے جبکہ زیر حراست دیگر 7 قیدیوں کی ان کے رشتہ داروں سے ملاقات کروانے کا بھی حکم دیا ہے۔
یاد رہے کہ سنہ 2010 میں گیارہ افراد کو اُس وقت اڈیالہ جیل کے باہر سے سکیورٹی اداروں کے اہلکار زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے جب انسداد دہشت گردی کی متعلقہ عدالت نے عدم ثبوت کی بنا پر ان افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔







