’وزیرِاعظم چاہیں تو لاپتہ افراد کا معاملہ حل ہو سکتا ہے‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ پوچھ گچھ کے لیے مشکوک افراد کو تفتیشی مراکز میں تو لے جایا جا سکتا ہے لیکن اُنھیں زبردستی لاپتہ نہیں کیا جاسکتا اور اگر حکومت نے مشتبہ افراد کو طویل عرصے تک زیر حراست رکھنا ہے تو اس بارے میں قانون سازی کی جائے۔
عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں وزیر اعظم کو آگاہ کریں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ’جبری گمشدگی‘ کا کوئی قانون موجود نہیں ہے اور حکومت نے ایسا کرنا ہے تو اس پر قانون سازی کرے ان افراد کی گمشدگی کو قانون کے دائرے میں لے کر آئے۔
35 لاپتہ افراد کی ’جبری گمشدگی‘ سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران اُنھوں نے کہا کہ عوامی مفاد کی خاطر کوئی غیر قانونی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر ان لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش نہیں کرنا تو کم از کم اُن کی حراست کو قانون کے دائرے میں تو لایا جائے۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے عدالت کو بتایا کہ دو لاپتہ افراد کو آج جب کہ پانچ کو کل عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
ایڈیشنل سیکریٹری دفاع میجر جنرل ریٹائرڈ عارف نذیر نے عدالت کو بتایا کہ حراستی مراکز میں جو افراد قید ہیں انھیں عدالت کے روبرو پیش نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے عدالت کو ان لاپتہ افراد کے متعلق معلومات بند لفافے میں پیش کر دیں جسے عدالت نے دیکھے بغیر مسترد کر دیا۔
چیف جسٹس نے ایڈیشنل سیکریٹری دفاع کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک 14 لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، آپ نے ہمارے پرانے حکم پر ابھی تک عمل درآمد نہیں کیا تو ہم آپ کو مزید کیا حکم دیں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چیف جسٹس نے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ ملک کے وزیرِاعظم کے نوٹس میں ہے اور اگر وہ چاہیں تو اسے 24 گھنٹے کے اندر اندر حل کر سکتے ہیں۔
ایڈشنل سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ اُنھیں بہت شرمندگی ہوتی ہے جب عدالت کہتی ہے کہ اُنھیں ان لاپتہ افراد کے بارے میں سب معلوم ہے جب کہ بطور ایڈیشنل سیکرٹری دفاع اُن کے علم میں یہ معلومات نہیں ہیں۔
چیف جسٹس نے میجر جنرل ریٹائرڈ عارف نذیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت اُنھیں مخاطب نہیں کر رہی بلکہ اُن وردی والوں کو مخاطب کر رہی ہے جن سے عدالت نے خاصی رعایت برتی ہے۔
اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس میں ان لاپتہ افراد سے متعلق بھی قانون سازی پر کچھ کام ہوا ہے لیکن ابھی تک اس کو قانون کادرجہ نہیں ملا۔
اُنھوں نے کہا کہ جنگ زدہ علاقوں میں فوج جرائم کی سماعت کرسکتی ہے۔ جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ فوج کے اندرونی معاملات کے لیے ہے عام شہریوں کے لیے نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ قانون جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے افراد پر بھی لاگو نہیں ہوتا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حکومت نے لاپتہ افراد سے متعلق ٹاسک فورس تو بنا دی ہے لیکن اس سے آگے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
دوسری جانب بلوچستان میں فرنٹیئر کور کے سربراہ میجر جنرل اعجاز شاہد پیر کے روز بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر سپریم کورٹ نے اُنھیں منگل کے روز تک عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق سپریم کورٹ میں پیش نہ ہونے پر عدالت عظمی نے اُنھیں توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر رکھا ہے۔







