نیٹو سپلائی میں رکاوٹیں دور کریں گے: وزیر اعظم

پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون حملوں کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں
،تصویر کا کیپشنپاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون حملوں کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں

وزیرِ اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے امریکی وزیر دفاع چک ہیگل سے ملاقات کے دوران یہ عندیہ دیا ہے کہ نیٹو افواج کو رسد کی سپلائی کے راستے میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں گی۔

امریکی وزیر دفاع نے پاکستانی رہنماؤں کو بتایا ہے کہ سنہ دو ہزار چودہ میں افغانستان سے امریکی فوجوں میں کمی کے باوجود امریکہ دہشت گردوں کو خطے میں عدم استحکام پھیلانے کی اجازت نہیں دےگا۔

یہ بات امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کے دورۂ پاکستان کے بعد امریکی وزارتِ دفاع کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہی گئی۔

امریکی وزارتِ دفاع کے اس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی وزیر دفاع نے پاکستان کی سرزمین پر حقانی نیٹ ورک سمیت دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کی اور پاکستانی رہنماؤں سے کہا کہ سنہ دو ہزار چودہ میں نیٹو افواج کے جزوی انخلا کے بعد بھی امریکی فوجیں دہشت گردوں کو خطے میں عدم استحکام پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

پاکستان کے ذریعے افغانستان سے نکلنے کے زمینی راستوں کو کھلے رکھنے کی اہمیت پر امریکی وزیر دفاع نے زور دیا۔

انھوں نے پاکستان سے اب تک ملنے والے تعاون پر وزیر اعظم پاکستان کا شکریہ اداد کرتے ہوئے کہا کہ چمن کے راستے افغانستان جانے آنے کے راستے کھلے ہیں لیکن طورخم پر احتجاج اور سکیورٹی خدشات کی وجہ سے نیٹو سپلائی پر اثر پڑا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں خیر پختونخوا میں برسرِاقتدار جماعت تحریک انصاف نے ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گزشتہ چند دنوں سے طورخم کے راستے نیٹو افواج کے لیے سامان لے کر افغانستان جانے والے ٹرکوں کو روک رکھا ہے۔

امریکی وزارتِ دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی سکیورٹی اداروں کی انسداد دہشت گردی اور تشدد کو روکنے کی صلاحتیوں کو بڑھانے کے لیے امریکی تعاون کرتا رہے گا جو پاکستان کی مغربی سرحد پر تشدد کو روکنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ سنہ دو ہزار دو سے اخراجات اور سکیورٹی تعاون کی مدد میں امریکہ پاکستان کو سولہ ارب ڈالر فراہم کر چکا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان میں اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر شدت پسندی اور انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لیے مستقل مزاجی سے کارروائیاں کرتا رہے۔

چک ہیگل پیر کی صبح افغانستان سے پاکستان پہنچے تھے۔گذشتہ چار سالوں میں کسی امریکی وزیرِ دفاع کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔

سرکاری ریڈیو کے مطابق اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ امریکہ اور پاکستان کی سٹریٹیجک شراکت خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم ہے اور حالیہ چند ماہ میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں قابلِ ذکر بہتری آئی ہے۔