طالبان سے مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے: نواز شریف

کل جماعتی کانفرس میں حکومت کو طالبان سے بات چیت شروع کرنے کا اختیار دیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنکل جماعتی کانفرس میں حکومت کو طالبان سے بات چیت شروع کرنے کا اختیار دیا گیا تھا

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ طالبان سے امن مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے اور وہ امید کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ یہ مذاکرات آئین کے دائرہ کار کے اندر ہوں۔

لندن میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے جمعرات کو لندن میں برطانیہ کے نائب وزیراعظم نک کلیگ سے ملاقات میں طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ انسداد دہشت گردی فورسز اور خفیہ ہتھیاروں کی استعداد بڑھائی جا رہی ہے تاکہ ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت یہ نہیں چاہتی کہ ملک کی گلیوں میں معصوم شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار گلیوں میں مارے جائیں۔

اس بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کے انسداد دہشت گردی کے اداروں اور سکیورٹی فورسز کی صلاحیت اور استعداد بھی بڑھانے پر کام کر رہی ہے تاکہ ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

وزیراعظم پاکستان نے حال ہی میں جاری کیے جانے والے تحفظِ پاکستان آرڈیننس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس آرڈیننس کو تیار کرنے کا مقصد خاص طور پر عوام اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث دہشت گردوں سے نمٹنا ہے۔

وزیراعظم نے برطانیہ کے دورے پر جانے سے پہلے وزیر داخلہ چوہدی نثار علی خان کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کا اختیار دیا تھا۔

مقامی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی تھی کہ اس ضمن میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو اعتماد میں لینے کے لیے رابطے کیے جائیں۔

رواں ماہ وزیراعظم نواز شریف نے امریکہ کے دورے پر جاتے ہوئے لندن میں مختصر قیام کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’تمام پارٹیوں نے طالبان سے مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا جس کے بعد ہم نے مذاکرات شروع کیے لیکن پھر تشدد بھڑک اٹھا اور مذاکرات میں رکاوٹ پیدا ہوگئی۔‘

وزیراعظم کے بقول پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے اوردوسرے فریق کی طرف سے بھی اسی طرح کی کوششیں ہونی چاہییں۔

ستمبر میں کل جماعتی کانفرنس میں حکمراں جماعت کو طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کا اختیار دیا گیا تھا تاہم اس فیصلے کے فوری بعد بری فوج کے میجر جنرل کی ہلاکت، پشاور میں حملے سمیت تشدد کے متعدد واقعات پیش آنے کے بعد مذاکرات کا عمل کھٹائی میں پڑتا ہوا دکھائی دیا جبکہ کالعدم تحریک طالبان کے مطابق حکومت نے مذاکرات میڈیا کے حوالے کر دیے تھے۔

وزیراعظم نواز شریف نائب برطانوی وزیرِاعظم سے ملاقات میں بھارت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب معاملات کو حل کرنے کے لیے مخلصانہ کوشش کیں۔

’ہم نے پاکستان میں بھارت کی تنقید کو ایک غیر مسئلہ بنایا لیکن بدقسمتی سے بھارتی سیاست دان اب بھی بلاجواز پاکستان پر تنقید جاری رکھے ہوئے ہیں‘۔

انہوں نے پاکستان میں توانائی پر دی جانے والی رعایت یعنی سبسڈی میں کمی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ بجلی پر سسبسڈی کے جزوی خاتمے پر معاشرے کے کچھ حلقے ناخوش ہیں لیکن موجودہ حکومت کی سمت درست ہے۔ آئندہ تین سے چار سال کے دوران بجلی کے نئے منصوبوں سے کئی ہزار میگاواٹ کی پیداوار شروع ہو جائے گی جس سے بجلی کی طلب اور رسد میں فرق قابل ذکر حد تک کم ہو جائے گا اور بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی آئے گی۔