’ہمیشہ کوئی نہ کوئی واقعہ ہو جاتا ہے‘

لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اب پھر معمول بن گئی ہے
،تصویر کا کیپشنلائن آف کنٹرول پر فائرنگ اب پھر معمول بن گئی ہے
    • مصنف, شمائلہ جعفری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام, سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری

دھان کے سرسبز کھیت کچھ کچے پکے مکان کہیں کھیتوں میں کام کرتے لوگ اور بھیڑ بکریوں کی اٹھکیلیاں۔ سیالکوٹ کے قریب پاکستان اور بھارت کی سرحد پر موجود جوئیاں گاؤں دور سے پنجاب کے کسی بھی عام دیہات کی طرح دکھای دیتا ہے۔

پچہتر سالہ شریفاں بی بی اسی گاؤں میں پیدا ہوئیں اور یہیں دو کمرے اور بڑے سے صحن والے ایک گھر میں اپنی سات بیٹیوں اور دو بیٹوں اور چھ پوتے پوتیوں کے ساتھ رہتی ہیں۔عام دنوں میں تو ان کا صحن بچوں کی شرارتوں سے گونجتا رہتا ہے، لیکن آج کل یہاں بالکل ویرانی ہے۔

شریفاں بی بی کہتی ہیں: ’عید کے دوسرے دن سے ہر روز رات کے وقت انڈیا والے گولے مارنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے مکان کچے ہیں، ہمیں خوف رہتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ چھت گر جائے اور بچے دب کر مر ہی نہ جائیں۔ لیکن ہم کہاں جائیں، اب بال بچوں کو دوسرے گاؤں میں کسی کے پاس چھوڑا ہے۔ جو لوگ رہ گئے ہیں بھی وہ شام ہوتے ہی اپنی جانیں بچانے ے لیے یہاں سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔‘

سیالکوٹ اور جموں کی ورکنگ باؤنڈری پرگزشتہ دس روز سے پاکستان رینجرز اور بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ دونوں ملکوں کے فوجی ذرائع اسے سیزفائر کی شدید ترین خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

رینجرز حکام کا کہنا ہے کہ رواں برس اب تک سیالکوٹ جموں ورکنگ باؤنڈری پر سیزفائر کی پچہتر خلاف ورزیاں ہو چکی ہیں۔جن میں دو افراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہوئے۔

جوئیاں اور چاروا کی اکثر آبادی نقل مکانی کرچکی ہے۔ دن کے وقت کچھ لوگ اپنے گھروں کی دیکھ بھال یا مویشیوں کو چارا ڈالنے گاؤں کا رخ کرتے ہیں اور پھر شام ڈھلتے ہی سناٹا ہوجاتا ہے۔

جو تھوڑے بہت لوگ رات گزارتے ہیں وہ رات بھر اپنے بستروں میں دبک کر کلمے کا ورد کرتے ہیں اور صبح ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ صبح کے وقت سرحدی دیہاتوں میں کچھ عجیب ہی منظر ہوتا ہے۔ گلیوں میں جگہ جگہ مارٹر گولے اور عمارتوں میں سوراخ دکھائی دیتے ہیں۔

شاید ہی کوئی گلی ایسی ہوجہاں مکانوں پر گولہ باری کے نشان موجود نہ ہوں۔

صغیر بھی جوئیاں کے رہائشی ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’اتوار کی رات دس بجے انڈیا نے گولہ باری شروع کی اور صبح چھ بجے تک لگاتار ہوتی رہی۔ لوگوں کا بہت نقصان ہو رہا ہے۔ ہمارے گاوں میں ایک آدمی کو بھی گولہ لگا اور وہ مر گیا وہ رکشہ چلاتا تھا اب اس کے تین بچے بے آسرا ہیں۔‘

مبصرین کا خیال ہے کہ ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کے واقعات تو نئے ہیں لیکن یہ اسی کشیدگی کا سلسلہ ہے جو لائن آف کنٹرول پر جنوری سے جاری ہے۔

تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں: ’سیزفائر کی خلاف ورزی کے واقعات دونوں جانب سے مسلسل ہو رہے ہیں۔ اور ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جو میکانزم موجود ہیں ان سے کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ اس میں دونوں ملکوں کی فوج میں موجود کچھ ایسے عناصر یہ فیصلہ کر رہے ہیں تاکہ دونوں ملکوں کے دوران مذاکرات کا جو عمل شروع کیا جارہا تھا اسے سست روی کا شکار کیا جاسکے اور سرحد پر چپلقش کے ذریعے یہ آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔ اور اب ویسے بھی بھارت میں پاکستان سے تعلقات کے حوالے سے فوج کا اثرورسوخ کافی بڑھ رہا ہے۔‘

دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی تناؤ پر سب سے زیادہ پریشانی کاروباری طبقے کو ہے۔ وہ سرحدوں پر ہونے والی گولہ باری کو دونوں ملکوں کے تجارتی مفادات کے لیے اچھا شگُون نہیں سجھتے۔ لاہور چیمبر آف کامرس میں پاک انڈیا بزنس کمیٹی کے سربراہ آفتاب وہرہ کہتے ہیں: ’جونہی دونوں ملکوں کے درمیان تجارت آگے بڑھنے لگتی ہے کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ہوجاتا ہے کہ جس کا براہ راست تجارت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن اس کی وجہ سے تجارت اور دوسرے تعلقات بہت پیچھے چلے جاتے ہیں۔‘

بڑے بڑے تاجروں کی کیا بات کی جائے سرحد پر ہونے والی گولہ باری سے تو چاروا گاؤں میں سائیکلوں کا کام کرنے والے ثنا اللہ کی روزی روٹی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ثنا اللہ بتاتے ہیں: ’پہلے بھی گزارہ ہی چلتا ہے لیکن جس دن سے گولہ باری شروع ہوئی ہے کام بالکل ٹھپ ہوگیا ہے۔ ہماری فصلیں بھی تیار کھڑی ہیں لیکن ہم کاٹ نہیں سکتے۔‘

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس سرحدی کشیدگی سے دونوں ملکوں میں جنگ کے امکانات تو نہ ہونے کے برابر ہیں تاہم امن کا سورج طلوع ہونے کی توقع معدوم ضرور ہوسکتی ہے۔