بلوچستان: جعفر ایکسپریس ٹرین کے قریب دھماکہ، 7 ہلاک

 بلوچستان میں ماضی میں علیحدگی پسند ریل گاڑیوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں
،تصویر کا کیپشن بلوچستان میں ماضی میں علیحدگی پسند ریل گاڑیوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں دھماکے کے بعد ریل گاڑی کی بوگیاں پٹڑی سے اترنے کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق یہ دھماکہ نوتال کے علاقے میں اس وقت ہوا جب راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس وہاں سے گزر رہی تھی۔

ڈیرہ مراد جمالی کے ایس ایچ او کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں ریل گاڑی کی چار بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔

وفاقی وزیر برائے ریلوے سعد رفیق نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے میں ابتدائی طور پر سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ دس افراد زخمی ہوئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق دھماکے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ جعفر ایکسپریس رواں سال دو مرتبہ پہلے بھی حملوں کا نشانہ بن چکی ہے۔

اگست میں اسے بولان کے علاقے میں راکٹ سے نشانہ بنایا گیا تھا جس سے ٹرین کا انجن تباہ ہوگیا تھا۔انجن تباہ ہونے کے بعد رکی ہوئی ریل گاڑی پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ بھی کی گئی تھی جس سے دو مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔

اس سے قبل جنوری 2013 میں ٹرین پر سبی اور مچھ کے درمیان پنیر کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی جس سے ایک سکیورٹی اہلکار سمیت تین افراد ہلاک اور انیس زخمی ہوئے تھے۔

بلوچستان میں ماضی میں علیحدگی پسند ریل گاڑیوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں تاہم کسی گروپ نے تاحال اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔