متاثرینِ زلزلہ میں بیماریاں پھیلنے کا خطرہ

مشکے میں مریضوں کو پتھریلی زمین پر چٹائی پر لٹا کر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے
،تصویر کا کیپشنمشکے میں مریضوں کو پتھریلی زمین پر چٹائی پر لٹا کر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے

بلوچستان میں زلزلے سے تباہ ہونے والے علاقوں کے رہائشیوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور متاثرہ علاقوں میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیماریاں پھیلنے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

زلزلے سے متاثرہ ضلع آواران کی تحصیل مشکے میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق آلودہ پانی پینے سے متاثرین بیمار پڑ رہے ہیں۔

مشکے میں پینے کا پانی کنوؤں سے حاصل کیا جاتا تھا جو زلزلے کے بعد مٹی سے بھر گئے ہیں اور لوگ اب برساتی نالوں اور ندی کا پانی استعمال کر رہے ہیں۔

مشکے میں قائم طبی کیمپ میں موجود ڈاکٹر ارشاد بلوچ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ آلودہ پانی پینے سے لوگوں میں اسہال اور دست کی بیماری پھیل رہی ہے جب کہ متاثرین خوراک کی کمی کا بھی شکار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ تنظیموں نے علاقے میں راشن تقسیم کیا ہے لیکن ان میں بچوں اور حاملہ خواتین کی خوراک کا انتظام نہیں ہے۔

یاد رہے کہ متاثرین میں خواتین اور بچوں کی اکثریت ہے۔ بچوں کے لیے امداد فراہم کرنے والا اقوام متحدہ کا ادارہ یونیسیف اور امدادی تنظیم سیو دی چلڈرن تاحال اس علاقے میں حکومت کی جانب سے رسائی دیے جانے کے منتظر ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے حال ہی میں بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں کہا تھا کہ جلد ہی اقوام متحدہ کے اداروں کو متاثرہ علاقوں تک رسائی دی جائے گی کیونکہ جتنی بڑی تباہی آئی ہے وہ اکیلے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے، اس کے لیے بین الاقوامی مدد کی بھی ضرورت ہوگی۔

ڈاکٹر ارشاد کے مطابق علاقے میں ملیریا کے علاوہ سانپ اور بچھو کے کاٹنے کے مریض بھی سامنے آ رہے ہیں کیونکہ لوگ منہدم گھروں کے باہر زمین پر سو رہے ہیں لیکن ابھی تک تریاق کسی بھی علاقے میں دستیاب نہیں۔

بولان میڈیکل کالج کے شعبۂ گائنی کی سینیئر میڈیکل افسر ڈاکٹر سعیدہ بھی رضاکار کیمپ میں پہنچی ہیں۔ انہوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ علاقے میں حاملہ خواتین کو مشکلات کا سامنا ہے اور اس وقت بھی کیمپ میں تین خواتین موجود ہیں جن کا حمل زلزلے کے باعث ضائع ہوا ہے۔

ڈاکٹر سعیدہ کے مطابق ان کے پاس کئی حاملہ خواتین آ رہی ہیں تاہم الٹراساؤنڈ کے بغیر وہ تشخیص نہیں کر پا رہیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق مشکے کے قریب سب سے بڑا ہپستال آواران ہے، جہاں صرف ایک لیڈی ڈاکٹر ہے اور لیبارٹری اور ایکسرے مشین بھی دستیاب نہیں، جبکہ پانچ گھنٹے کے اس سفر میں پتھریلی ناہموار سڑکوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ سفر حاملہ خواتین کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

خیال رہے کہ مشکے میں ڈاکٹروں نے رضاکارانہ طور پر کیمپ لگایا ہے، جہاں بیڈ بھی دستیاب نہیں اور مریضوں کو پتھریلی زمین پر چٹائی پر لٹا کر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔