بلوچستان میں تشدد کے واقعات میں چھ ہلاک

بلوچستان میں گزشتہ کئی سالوں سے جاری پرتشدد کے واقعات میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں
،تصویر کا کیپشنبلوچستان میں گزشتہ کئی سالوں سے جاری پرتشدد کے واقعات میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تشدد کے تین مختلف واقعات میں چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک کرشنگ پلانٹ پر کام کرنے والے تین مزدور بھی شامل ہیں۔

<link type="page"><caption> ’گوادر پورٹ سٹریٹیجک معاملہ بھی ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/03/130313_army_gawadar_pm_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ساحلی شہر گوادر سے تقریباً ساٹھ کلومیٹر دور سنتسر کے مقام پر واقع ایک کرشنگ پلانٹ پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔

حملے میں تین افراد ہلاک ہو گئے جبکہ پلانٹ کے ٹھیکیدار کو مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے۔

گوادر ہسپتال میں حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے تینوں افراد کا تعلق صوبہ پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ سے ہے۔

ابھی تک کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

ضلع گودار میں اس سے پہلے بھی سکیورٹی فورسز اور صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروں پر حملے ہو چکے ہیں۔ جولائی میں یہاں شدت پسندوں کے ایک حملے میں کوسٹ گارڈز کے سات اہلکار ہلاک اور چھ سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

وفاقی حکومت نے گوادر کی بندرگاہ کا کنٹرول حال ہی میں چین کی ایک کمپنی کو دیا گیا ہے اور اس فیصلے پر قوم پرست رہنماؤں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ایک دوسرے واقعے میں پنجگور میں موٹر سائیکل سوار مسلح افراد کی فائرنگ سے جمعیت علماء اسلام کے دو کارکن ہلاک ہو گئے ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں بھائی تھے اور جمعرات کی صبح اپنے گھر سے کام پر جا رہے تھے کہ مسلح افراد نے انہیں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

جمعرات کی صبح ہی صوبے کے دارالحکومت کوئٹہ کی سریاب روڑ پر مسلح افراد نے باپ بیٹے پر فائرنگ کر دی۔

فائرنگ سے بیٹا موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ باپ زخمی ہو گیا، جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

بلوچستان میں فوجی صدر جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد سے حالات زیادہ خراب ہیں۔

صوبے میں بم دھماکوں سمیت تشدد کے سینکڑوں واقعات پیش آ چکے ہیں۔