پشاور میں قافلے پر حملے میں نو افراد ہلاک

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ مسافر گاڑیوں کے ایک قافلے پر نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے حملے کے نتیجے میں نو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
پولیس اہلکاروں کے مطابق یہ واقعہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب پشاور کے مضافاتی علاقے متنی میں مرکزی انڈس ہائی وے پر اس وقت پیش آیا جب درجنوں مسلح افراد نے جنوبی اضلاع کی طرف جانے والی مسافر گاڑیوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔
انہوں نے کہا کہ حملے میں نو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والے عام شہری بتائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسافر گاڑیاں جنوبی اضلاع کی طرف جاری تھیں تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مرنے والوں کا تعلق کس علاقے سے ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ واقعے کے اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز اور پولیس کی بھاری نفری علاقے جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔
انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے جوابی کارروائی کے بعد عسکریت پسند بھاگ جانے میں کامیاب ہوئے، تاہم فائرنگ کا سلسلہ تقریباً تیس منٹ تک جاری رہا اور اس دوران دونوں طرف سے شدید فائرنگ ہوتی رہی۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ عسکریت پسندوں نے بعض مسافروں کو اغوا کرلیا ہے تاہم سرکاری طورپر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
یادرہے کہ پشاور شہر سے تقریباً 12 کلومیٹر دور واقع متنی کا علاقہ انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سکیورٹی فورسز پر حملے اور اغوا برائے تاوان کے واقعات عام ہیں جبکہ یہاں حکومتی عمل داری بھی نہ ہونے کے برابر بتائی جاتی ہے۔
قبائلی علاقے سے متصل ہونے کی وجہ سے اس علاقے میں بیشتر مقامات پولیس کےلیے ’نوگوایریا‘ سمجھے جاتے ہیں۔ اس علاقے میں پچھلے ایک سال کے دوران کئی پولیس افسران اور سکیورٹی اہلکار شدت پسندوں کے حملوں میں مارے جا چکے ہیں تاہم اس کے باوجود اس علاقے میں حکومتی عمل داری بحال نہیں کی جا سکی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر دوسری طرف پشاور شہر کے علاقے ہشتنگری میں پولیس سٹیشن کے اندر ہونے والے ایک بم دھماکے میں پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد تھانے کے اندر کھڑی موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا جس سے تھانے کی عمارت اور قریبی دکانوں و مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔







