پشاور: دھماکے کا مقدمہ درج، ہلاکتیں 18

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مضافات میں بڈھ بیر کے مقام پر اتوار کو ہونے والے دھماکے کا مقدمہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے تین کمانڈروں کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اٹھارہ ہو گئی ہے جبکہ پچاس زخمی ہیں۔

تینوں ملزمان کا تعلق تنظیم کے درہ آدم خیل گروپ سے بتایا گیا ہے۔

یہ مقدمہ پولیس انسپکٹر عابد الرحمان کی مدعیت میں تھانہ بڈھ بیر میں درج کیا گیا۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ اس کارروائی میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان درہ آدم خیل گروپ کے افراد ملوث ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کے بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں کہ آیا یہ گاڑی درہ آدم خیل سے دھماکہ خیز مواد نصب کرکے لائی گئی ہے اور یا اس گاڑی میں بارود اسی علاقے میں ہی رکھا گیا تھا۔

تھانہ بڈھ بیر کے ایس ایچ او عابد الرحمان کا کہنا ہے کہ بڈھ بیر دھماکے کا مقدمہ کالعدم تنظیم کے تین کمانڈروں جنگریز، اورنگزیب اور غفران کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔

تینوں ملزمان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان کا تعلق بڈھ بیر کے قریب واقع علاقہ متنی سے ہے لیکن اب یہ لوگ درہ آدم خیل میں رہائش پذیر ہیں۔

پولیس حکام کا کہناہے کہ تینوں ملزمان کے خلاف تھانہ متنی، بڈھ بیر اور سربند میں متعدد مقدمات درج ہیں۔

پولیس کے مطابق اتوار کو بڈھ بیر میں دھماکے کے بعد پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے لگائے ہیں اور لگ بھگ ایک سو بیس مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جنھیں پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا گیا۔

متنی اور بڈھ بیر کے علاقوں میں شدت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے اور کوئی دو ماہ کے دوران دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں جن میں زیادہ تہ واقعات میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملے شامل ہیں۔

دہشت گردی پر تحقیق کرنے والے پروفیسر خادم حسین کا کہنا ہے کہ پشاور کے مغربی اور جنوبی علاقوں میں حکومت کی عملداری کم ہی نظر آتی ہے کیونکہ ان علاقوں میں اب شدت پسند کھلے عام دیکھے جا سکتے ہیں اور یہاں تک کے اب یہ لوگ بھتے بھی وصول کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی عمداری قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ خفیہ اداروں کو موثر کام کرنا چاہیے اور پھر ان اداروں کا پولیس کے ساتھ مکمل رابطہ ہونا چاہیے۔

متنی اور بڈھ بیر کے علاقوں میں کوئی ڈیڑھ سال سے حالات کشیدہ ہیں اور اس ساری صورتحال پر وزارت داخلہ بھی تشویش ظاہر کر چکی ہے۔