’ڈیم کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے‘

پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں بارشوں اور سیلابوں کے نتیجے میں کم از کم انتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ متعدد افراد لاپتہ ہیں۔

ملک کے مختلف علاقوں سے متاثرہ افراد نے بی بی سی سے بات کی۔

علی مدد مگسی، جھل مگسی

حالیہ سیلاب کی شدت گزشتہ سالوں میں آنے والے سیلابوں سے بہت زیادہ نظر آرہی ہے۔ پہاڑوں سے آنے والے پانی نے راتوں رات گھروں اور کھڑی فصلوں کو تباہ کر دیا اور اب یہ ڈیم کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

علاقے میں اب تک 8 سے 9 فٹ تک پانی ہے اور متاثرین گوادر اور رتو ڈیرو موٹر وے روڈ کے ساتھ بنائے گئے پر بچاؤ پل پر کھڑے ہیں۔ اس پانی کا رخ سندھ کی طرف ہے۔

نعمت اللہ، جھل مگسی

ابھی تک یہاں کوئی ہلاکت تو نہیں ہوئی لیکن ہم کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں اور ابھی تک ریلیف کا کوئی کام شروع نہیں ہوا۔

احمد علی، جعفر آباد

یہاں پر رات دو بجے سے صبح دس بجے تک مسلسل بارش ہوئی جس کے بعد وقعے وقفے سے بارش جاری رہی۔ میرا علاقہ ڈیرہ اللہ یار ہے جہاں دو فٹ تک پانی کھڑا ہے۔ بجلی اور ٹیلی فون کی فراہمی رات سے منقطع ہے۔ میرے پڑوس میں دو گھروں کے حصے گرے ہیں مگر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ حکومت کی طرف سے کوئی مدد نہیں دی گئی ہے۔

ثنا اللہ، راجن پور

میں تحصیل جام پور کی بستی لاشاری سے تعلق رکھتا ہوں۔ آج بارش صبح کے وقت شروع ہوئی اور اس کے بعد رود کوہی کوہِ سلیمان کی جانب سے پانی شہر میں آ رہا ہے۔ فصلیں زیرِ آب ہیں۔ چند مکانات گرے ہیں مگر پانی بہت ہے اور چند دیہات میں پانچ فٹ تک پانی ہے۔

انور الحق، چترال

میرا تعلق دروش کے علاقے دمیک سے ہے۔ میرے علاقے میں بارش گزشتہ تین دنوں سے وقفے وقفے سے ہو رہی تھی، پانی بہت ساری املاک بہا کر لے گیا ہے۔ میرے علاقے میں کئی گھر علاقے میں تباہ ہوئے جن میں ایک کالج بھی شامل ہے۔ میری تقریباً پچاس فٹ زمین دریا بہا کر لے گیا ہے۔

مشتاق عالم، گلگت

میرا تعلق نومل گاؤں سے ہے جو ہنزہ اور گلگت کی سڑک پر ہے۔ بارش سے میرے قریبی گاؤں میں کافی پانی آیا ہے جس سے کافی مکانات متاثر ہوئے ہیں۔