پشاور:’غیر اخلاقی پروگراموں‘ پر پابندی کا مطالبہ

ذرائع ابلاغ معاشرے میں کسی بھی رحجان کو پروان چڑھانے میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے: عظمیٰ خان
،تصویر کا کیپشنذرائع ابلاغ معاشرے میں کسی بھی رحجان کو پروان چڑھانے میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے: عظمیٰ خان

پاکستان کی صوبہ خیبر پختون خوا اسمبلی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نجی ٹیلی ویژن چینلز پر دکھائے جانے والے ’غیر اخلاقی پرگراموں‘ پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے اور ایسے پرگرام نشر نہ کیے جائیں جس سے ’معاشرتی اقدار‘ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔

ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق یہ مطالبہ منگل کو خیبر پختون خوا اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت علماء اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن صوبائی اسمبلی عظمٰی خان کی طرف سے ایک قرارداد میں کیا گیا جسے بعد میں ایوان نے متفقہ طورپر منظور کرلیا ۔

دیر سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن نے قرارداد پیش کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے اور یہ آئین پاکستان میں ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کو یقینی بنائی گی جس سے اسلامی معاشرہ پروان چڑھنے میں مدد ملے۔

انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ معاشرے میں کسی بھی رحجان کو پروان چڑھانے میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت اس امر کی سفارش کرے کہ نجی ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے ’غیر اخلاقی پروگراموں‘ پر پابندی عائد ہو اور ایسے پروگرام نشر نہ کیے جائیں جو مسلمان معاشرے ، تہذیب، ثقافت اور روایات کے منافی ہوں۔

دوسری طرف خیبر پختون خوا اسمبلی کے اجلاس میں آج دوسرے روز بھی حکومت اور حزبِ اختلاف کے مابین قبائلی علاقوں میں جاری امریکی ڈرون حملوں کے خلاف قرارداد لانے سے متعلق اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔

اپوزیشن کا موقف تھا کہ صرف ڈرون حملے ہی نہیں بلکہ نیٹو فورسز کو سپلائی پر پابندی کو بھی قرارداد میں شامل کیا جائے اور صوبائی حکومت اس صوبے سے گزرنے والے اتحادی افواج کے گاڑیوں کو بند کرنے کا اعلان کرے تاہم حکومتی ارکان کا کہنا تھا کہ یہ پابندی سندھ حکومت کو لگانی چاہیے ۔

اس سے قبل چائے کے وقفے کے دوران بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈرون حملوں کے حوالے سے قرارداد پر طویل مشاورت ہوئی اور ایک قرارداد کو متفقہ طور پر ڈرافٹ بھی کیا گیا تاہم بعد میں یہ قرارداد ایوان میں پیش نہیں کیا جاسکا۔

حزب اختلاف کا یہ بھی موقف تھا کہ سندھ حکومت نیٹو سپلائی کی بندش کا اعلان کرتی ہے یا نہیں اس سے ان کا کوئی کام نہیں ہونا چاہیے تاہم یہ صوبائی حکومت کے اختیار میں ہے کہ وہ اس صوبے کی حدود میں نیٹو سپلائی کو بند کردے اور اس کا فوری طورپر اعلان کیاجائے۔

خیال رہے کہ تقربناً دو سال قبل تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے پشاور میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف دھرنا دے کر حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ خیبر پختون خوا کی حدود میں نیٹو فورسز کی سپلائی پر پابندی لگائی جائے۔

اس سے پہلے بات کرتے ہوئے وزیر قانون اسرار اللہ گنڈاپور نے ایوان کو بتایا کہ ٹی وی چینلز پر پیش کئے جانے والے پروگراموں پر پیمرا کی طرف سے نظر رکھا جاتا ہے