’پاکستان میں غیر ملکیوں کو نشانہ بنائیں گے‘

طالبان کا کہنا ہے کہ انھوں نے پاکستان میں موجود غیر ملکیوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک نیا گروہ تشکیل دیا ہے۔
پاکستانی طالبان کے مطابق نیا تشکیل دیے جانے والے گروپ کا نام جنودِ حفصہ ہے جس کا مقصد ڈرون حملوں کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانا ہے۔
اس سے پہلے طالبان نے کہا تھا کہ نانگا پربت بیس کیمپ میں کیا جانے والا حملہ کمانڈر ولی الرحمن کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا۔
یہ اعلان گزشتہ ہفتے کو ملک کے شمالی علاقاجات میں دس غیر ملکی کوہ پیماؤں کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔
اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار اورلا گیورین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غیر ملکیوں پر گزشتہ دس سالوں میں ہونے والا یہ بدترین حملہ تھا۔
طالبان کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کوہ پیماؤں کو بین الاقوامی برادری کی جانب سے پاکستان پر ڈرون حملوں کے مسلسل استعمال کی حمایت پر انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔
غیر ملکی کوہ پیماؤں کی ہلاکت یہ واقعہ ضلع دیامر کے صدر مقام چلاس کے قریب نانگا پربت بیس کیمپ میں پیش آیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق گلگت سکاؤٹس کی وردیوں میں ملبوس تقریباً بارہ مسلح حملہ آوروں نے نصف شب ایک مقامی ہوٹل میں گھس کر حملہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کی قومی اسمبلی نے سیاحوں کو قتل کرنے کے واقعے کی مذمتی قرار داد بھی منظور کی جسے تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے پیش کیا تھا۔
اس واقعے کے بعد سے پاکستان میں کوہ پیمائی پر مبنی تمام سرگرمیاں روک دی گئی ہیں اور مقامی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ دیگر پہاڑوں بشمول کے ٹو، عنقریب تمام سیاحتی سرگرمیاں روک دی جائیں گی۔
حکام کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں نانگا پربت بیس کیمپ میں دس غیر ملکی اور ایک پاکستانی سیاح کو سروں میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔
ہلاک ہونے والے سیاحوں میں تین کا تعلق چین، پانچ یوکرائن، دو روس جبکہ ایک کا تعلق پاکستان سے ہے۔







