پیپلز پارٹی تیر سے خود ہی گھائل ہوگئی

ملک کے بڑے حصے میں بے نظیر کی پیپلز پارٹی کا نام و نشان فنا ہو گیا ہے
،تصویر کا کیپشنملک کے بڑے حصے میں بے نظیر کی پیپلز پارٹی کا نام و نشان فنا ہو گیا ہے
    • مصنف, علی سلمان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، ڈاٹ کام لاہور

ان انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ وہ کچھ ہوگیا ہے جس کا تصور شاید کبھی اس کے کارکن تو کیا اس کے مخالفین نے بھی نہیں کیا ہوگا۔

وہ پیپلز پارٹی جس کی مقتول چیئر پرسن کو چاروں صوبوں کی زنجیر کہا جاتا تھا اس زنجیر کی کڑیاں سندھ سے نکل کر زیادہ دور نہ جا سکیں۔

ایک صوبہ سندھ کو چھوڑ دیں تو پورے پاکستان سے اسے مجموعی طور پر قومی اسمبلی کی صرف دو سیٹیں ملی ہیں۔

یہ دنوں سیٹیں بھی جنوبی پنجاب کے شہر رحیم یار خان کی ہیں اور گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کی مرہونِ منت ہیں جو حال ہی میں فنکشنل لیگ چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ان دو سیٹوں کو چھوڑ کر پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں پیپلزپارٹی کا نام ونشان فنا ہو گیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتا رہنماؤں کے پاس ہارنے کی نہ کوئی دلیل ہے نہ کوئی بہانہ، سوائے یہ کہ مخدوم احمد محمودنے گورنر پنجاب کے عہدے سے، یوسف رضا گیلانی نے سینیئر وائس چیئرمین کےعہدے سے، منظور وٹو نے پارٹی کی صوبائی صدارت سے اور اعتزاز احسن نے اپنی سینیٹ کی سیٹ سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے حامی یہ دلیلیں دے رہے ہیں کہ چونکہ انھیں طالبان نے پر تشدد کارروائیوں کا نشانہ بنا رکھا تھا اس لیے وہ ہارے ہیں لیکن اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اسی نشانے پر ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی بھی تھی۔

ایم کیو ایم نے اپنی پکی روایتی سیٹیں حاصل کرلیں جب کہ عوامی نیشنل پارٹی نے کھلے دل سے تسلیم کرلیا ہے کہ انہیں عوام نے ووٹ بھی نہیں دیے۔

پیپلز پارٹی کے کئی رہنما اپنے پارٹی عہدوں سے مستعفی ہو رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنپیپلز پارٹی کے کئی رہنما اپنے پارٹی عہدوں سے مستعفی ہو رہے ہیں

مبصرین کا کہنا ہے کہ پنجاب میں کوئی خود کش حملہ ہوا نہ کوئی بم دھماکا۔ اس لیے پیپلز پارٹی کو اپنی انتخابی مہم چلانے میں کوئی امر مانع نہیں تھا، لیکن لگ یوں رہا تھا کہ پیپلزپارٹی کے امیدوار انتخابات میں دلچسپی ہی نہیں لے رہے۔

اب بظاہر وہ پارٹی رہنما خود کو عقلمند سمجھ رہے ہوں گے جنہوں نے مختلف بہانے بنا کر الیکشن نہیں لڑا اور بعض نے تو پارٹی ٹکٹ تک واپس کر دیے تھے۔

ایک سندھ کو چھوڑ کر پورے پاکستان میں پیپلز پارٹی کے زیادہ تر امیدوار دوسری پوزیشن پر بھی نہیں آئے بلکہ تیسری چوتھی حتیٰ کہ دسویں پوزیشن تک ان کا مقدر بنی۔

مبصرین کا کہناہے کہ پیپلز پارٹی تو دھاندلی کا الزام لگانے کے قابل بھی نہیں رہی کیونکہ جس حلقے میں مسلم لیگ نون کے امیدوار کے ووٹ ایک لاکھ سے زائد اور تحریک انصاف کے اسی ہزار سے زائد تھے، وہاں پیپلز پارٹی کے امیدوار تین چار ہزار ووٹوں سے آگے نظر نہیں آتے تھے۔

لاہور کے علاوہ تینوں صوبوں کے کئی حلقوں میں ووٹوں کے فرق کی اسی طرح کی ملتی جلتی صورتحال نظر آتی ہے۔

وہ تمام امیدوار جن کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ ان کا اپنے حلقے میں اپنا ذاتی اثر ورسوخ بہت ہے، وہ پارٹی کے انتخابی نشان تیر سے خود ہی گھائل ہوگئے اور انہوں نے ثابت کیا کہ ان کے ذاتی اثر و رسوخ سے زیادہ پارٹی کی غیر مقبولیت کام دکھا گئی۔

تجزیہ نگاروں کاکہناہے کہ ووٹروں کے فیصلے سے لگتا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور اقتدار سے خوش نہیں رہے اور انھوں نے معاشی بدحالی اور توانائی کے بحران کا انتقام جمہوری طریقے سے لیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد یہ پہلے الیکشن تھے جہاں مقابلہ پیپلز پارٹی اور اینٹی پیپلز پارٹی کے درمیان نہیں تھا اور اس کے ساتھ ہی دائیں بازو اور بائیں بازو کی کشمکش بھی معاشی بدحالی کے سامنے دم توڑتی نظر آئی۔

تین صوبوں میں پہلے دوسرے نمبر پر آنے والی جماعتوں کو اگر ماضی کی عینک سے دیکھا جائے تو بظاہر وہ دائیں بازو کی ہی دکھائی دیتی ہیں لیکن بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اصل بات یہ ہے لوگوں کو اس بات کی پروا نہیں رہی کہ کون دایاں ہے اور کون بایاں ہے۔

وہ صدر زرداری جن کے بارے میں پیپلز پارٹی نعرہ لگاتی تھی کہ ’ایک زرداری سب پر بھاری‘ وہ بظاہر اپنی پارٹی کے لیے بھاری ثابت ہورہے ہیں۔