’غریب‘ جماعتوں کے شاہانہ اخراجات

پاکستان میں جاری انتخابی مہم کے دوران سیاسی جماعتوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر اخبارات اور ٹی وی چینلز میں اشتہارات دیے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو ان کے انتخابی اخراجات پر نظر رکھنے کے لیے ’مانیٹرنگ سیل‘بنانے کی تجویز دی ہے۔
الیکشن کمیشن کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کو تجویز دی ہے کہ ’الیکشن ایڈورٹائزمنٹ مانیٹرنگ سیل‘ قائم کیا جائے جس میں وزارتِ اطلاعات اور دیگر نمائندے شامل ہوں اور اب انہیں عدالتی حکم کا انتظار ہے۔
ان کے بقول سپریم کورٹ کو یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اشتہارات کی ادائیگی کے چیک اور متعلقہ اخبارات اور ٹی وی چینل وصول شدہ چیک کی کاپیاں کمیشن کو فراہم کریں۔
پاکستان کی اکثر سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے پاس جو اثاثے ظاہر کیے ہیں اس کی نسبت تاحال اخبارات اور ٹی وی چینلز پر انتخابی مہم کے سلسلے میں جاری کردہ اشتہارات پر خرچ کردہ رقم کئی گنا زیادہ ہے۔
انتخابی قوانین کے مطابق غلط بیانی کرنا اور اثاثے کم ظاہر کرنا بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے جس کی تین سال تک قید اور پانچ ہزار روپے تک جرمانے کی سزا ہے لیکن تاحال کسی جماعت کو سزا نہیں ملی۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے سیاسی جماعتوں کے اثاثوں کی جاری کردہ تفصیل کے مطابق بیشتر جماعتوں نے آمدن اور اثاثوں کے اعتبار سے خود کو غریب ظاہر کیا ہے لیکن ان کی اشتہاری مہم کو اگر دیکھیں تو وہ شاہانہ لگتے ہیں۔
الیکشن کمیشن میں دو سو پچاس سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں لیکن آمدن اور اثاثوں کی تفصیل صرف ستتر جماعتوں نے فراہم کی ہے۔
تیس جون سنہ دو ہزار بارہ تک ظاہر کردہ اثاثوں کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے کل اثاثے چار لاکھ پینتیس ہزار ظاہر کیے ہیں لیکن گزشتہ دو ہفتوں میں جو انہوں نے اخبارات اور ٹی وی چینلز کو اشتہار جاری کیے ہیں ان کی مالیت کروڑوں میں بنتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ستتر سیاسی جماعتوں میں سے پانچ بڑی امیر جماعتوں میں ترتیب وار مسلم لیگ (ن) آٹھ کروڑ، مسلم لیگ (ق) پانچ کروڑ چودہ لاکھ، پاکستان تحریک انصاف پانچ کروڑ، عوامی نیشنل پارٹی دو کروڑ اور متحدہ قومی موومنٹ چورانوے لاکھ روپے شامل ہیں۔
جماعت اسلامی نے ساڑھے اٹھارہ لاکھ اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی نے پونے چودہ لاکھ کے اثاثے جاری کیے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے خود کو ان سے بھی غریب ظاہر کیا ہے۔
شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ نے ستر ہزار، اعجاز الحق کی ضیا لیگ نے تیس ہزار، غنویٰ بھٹو کی پیپلز پارٹی نے باون ہزار، پیر پگاڑا کی مسلم لیگ نے پچپن ہزار، مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی پونے چار لاکھ، ڈاکٹر قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی ایک لاکھ تینتیس ہزار، ایاز پلیجو کی عوامی تحریک دس ہزار اور طلال بگٹی کی جمہوری وطن پارٹی نے ڈیڑھ لاکھ روپے اثاثے ظاہر کیے ہیں۔
تمام جماعتوں نے الیکشن کمیشن کو بیان حلفی میں کہا ہے کہ ان کی ظاہر کردہ معلومات حقیقت پر مبنی ہے لیکن بعض سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں کے ظاہر کردہ اثاثے اور ان کے اخراجات کا اگر موازنہ کیا جائے تو وہ ایک مذاق لگتا ہے۔
انتخابی اصلاحات پر کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’پلڈاٹ‘ کے مطابق پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے اخراجات کی حد کا تعین کرنے کے لیے کوئی قانون ہی موجود نہیں ہے۔ ان کے بقول انہوں نے الیکشن کمیشن کو تحریری تجویز دی کہ وہ قانون سازی کریں۔
پلڈاٹ کے مطابق الیکشن کمیشن فوری طور پر امیدواروں کی تعداد یا کسی اور پیمانے کی بنا پر سیاسی جماعتوں کے لیے اخراجات کی حد مقرر کرنے کے لیے نگراں حکومت کو قانون سازی کے لیے مسودہ پیش کرے۔
واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) ایسی جماعتیں ہیں جو انگریزی، اردو، اور سندھی سمیت علاقائی زبانوں میں شائع ہونے والے اکثر اخبارات میں’فل پیج کلر‘سے لے کر مختلف سائز کے اشتہارات آئے روز شائع کروا رہی ہیں اور بیشتر ٹی وی چینلز پر روزانہ دو سے پانچ مرتبہ ان کے اشتہار چلتے ہیں۔
دیگر جماعتوں کے پوسٹر، پمفلٹ، بینر اور پینا فلیکس کا جائزہ لیں تو کسی طور پر بھی ذہن یہ تسلیم نہیں کرتا کہ ان کے ظاہر کردہ اثاثے حقائق پر مبنی ہیں۔
گیارہ مئی کے انتحابات کے لیے جس طرح عوامی نیشنل پارٹی، پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ طالبان کے نشانے پر ہیں ایسے میں انتخابی مہم کا زیادہ تر انحصار جلسے جلوسوں کے بجائے میڈیا پر ہوگا اور انتخابات میں پیسے کی ریل پیل کم کرنے کے لیے کوئی بھی قانون بناتے وقت اس نکتے کو بھی مدِنظر میں رکھنا ہوگا۔







