
تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے پاکستان کی سیاسی قیادت کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی
پاکستانی فوج نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش اور اس کے جواب میں سیاسی قیادت کے ردعمل سے خود کو الگ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس پالیسی فیصلے کے بعد پاکستانی فوجی قیادت نے اس معاملے پر کوئی بیان جاری کرنے یا اس بارے میں ہونے والی سیاسی فیصلہ سازی کے عمل میں بھی براہ راست شریک نہ ہونے کا اشارہ دیا ہے۔
پاکستانی فوج کے اس فیصلے کے بعد کابینہ کی کمیٹی برائے دفاع کا وہ اجلاس ممکنہ طور پر تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے جس میں ملکی سیاسی اور فوجی قیادت نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر غور کرنا تھا۔
یاد رہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے پاکستان کی سیاسی قیادت کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔
حزب اختلاف کے رہنما نواز شریف کی جانب سے مذاکرات کی حمایت کے بعد وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اس پیشکش پر غور کرنے کے لیے کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا تھا۔
وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کابینہ کمیٹی کا یہ اجلاس منگل انیس فروری کو طلب کیا تھا تاہم کابینہ ڈویژن ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس اجلاس کے انعقاد کے لیے حتمی نوٹیفیکشن جاری نہیں کیا جا سکا ہے۔
روایات کے مطابق وزیراعظم کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس کے لیے مسلح افواج کے سربراہوں سے ابتدائی مشاورت کے بعد ایک تاریخ تجویز کرتے ہیں اور ایجنڈے کی تیاری کے لیے سول اور فوجی حکام میں روابط کے بعد اجلاس کا حتمی نوٹیفیکشن جاری کیا جاتا ہے۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس سے ایک دن پہلے تک کابینہ کمیٹی کے اجلاس کا ایجنڈا طے نہیں کیا جا سکا ہے۔ فوجی قیادت طالبان کے ساتھ مذاکرات کو کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل کرنے کے حق میں نہیں ہے۔
اہم عہدے پر تعینات ایک فوجی افسر کا کہنا ہے کہ فوج طالبان کے ساتھ اس موقع پر مذاکرات کے حق میں نہیں ہے لیکن وہ اس بارے میں سیاسی قیادت کے فیصلے پر اثر انداز بھی نہیں ہونا چاہتی۔
افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کی جانب سے مذاکرات شروع کرنے کی یہ پیشکش ’بے موقع اور گمراہ کن‘ ہے جس کا پاکستانی ریاست کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
اس افسر کا البتہ کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ سیاسی قیادت نے کرنا ہے اور امکان یہی ہے کہ اعلیٰ فوجی قیادت اس معاملے میں اپنی رائے ’محفوظ‘ رکھے گی۔






























