
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک ویڈیو پیغام کے زریعے یہ دعوت دی ہے
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ایک بار پھر حکومت کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک ویڈیو پیغام میں حکومت کو ایک بار پھر مُثبت مذاکرات کی دعوت دی ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے مولانا فضل الرحمن، منور حسن اور نوازشریف پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ تینوں فوج کے لیے ضمانت دیں تو مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نےمزید بتایا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے ان کے پانچ ساتھیوں کو مذاکرات شروع ہونے سے پہلے رہا کرنا ہوگا کیونکہ وہ ان کی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہوں گے جن میں ملاکنڈ ڈویژن کے طالبان ترجمان مُسلم خان، مولانا محمود خان اور سابق ترجمان مولوی عمر شامل ہیں۔
اس ویڈیو میں شلوار قمیض میں ملبوس احسان اللہ احسان کے ساتھ بنوں جیل سے فرار ہونے والے عدنان بھی موجود تھے جبکہ ان کے پیچھے کھڑے دو نقاب پوشوں کو بھی دکھایا گیا ہے۔
احسان اللہ احسان نے کہا ہے کہ ’پاکستان کے رویہ سے ایسا معلوم ہورہا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں ہے لیکن وہ پھر بھی ان کے غیر سنجیدگی کے باوجود بھی پاکستان اور اسلام کی خاطر مُثبت مذاکرات کے انتظار میں ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ان کے دو مرتبہ معاہدے ہوئے تھے لیکن ماضی کے تجربات کی روشنی میں ان کا فوج پر اعتماد نہیں ہے۔
احسان اللہ احسان نے مغوی پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر اجمل خان کے بارے میں کہا کہ وہ ان کے تحویل میں ہیں اور وہ بُہت خوش ہیں ان کو کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ان کی رہائی کے حوالے سے حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں لیکن حکومت نے ان کی رہائی میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔
یہ ویڈیو ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان میں عبوری حکومت بنانے اور نئے الیکشن کی تیاریاں ہو رہی ہے۔
احسان اللہ احسان کے مطابق پاکستان کے ہر شہر میں ان کے نمائندے یا امیر موجود ہیں جن کے وہ نام نہیں لے سکتے ہیں تاہم قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ولی الرحمن، مالاکنڈ ڈویژن میں فضل اللہ، مہمند ایجنسی میں عمر خالد جبکہ باجوڑ میں ابوبکر ان کے امیر ہیں۔
انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ وہ طالبان کے معاملے میں فریق نہ بنیں۔






























