
مولوی نذیر کا خاندان کھیتی باڑی سے گزارا کرتا تھا اور وہ پاکستان کے علاوہ افغانستان میں بھی زرعی اراضی کے مالک تھے
یہ اپریل سنہ دو ہزار سات کی بات ہے جب جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں مقامی طالبان کے لیے مقرر کیے جانے والے رہنما مُلا نذیر نے اپنی پہلی اور اس قسم کی شاید آخری، اخباری کانفرنس منعقد کی۔
پشاور سے متعدد صحافی اس اخباری کانفرنس کے لیے وانا پہنچے اور موقع ملتے ہی میں نے پہلا سوال کچھ یوں کیا ’مُلا صاحب آپ کا کردار واضح نہیں کیونکہ آپ کو طالبان نے امیر مقرر کیا ہے تو پھر آپ کیسے ازبکوں کے خلاف کارروائی کرنے لگے، آخر ماجرا کیا ہے؟‘ تو اس وقت ایک انتہائی محتاط مُلا نذیر نے اس سوال کا جواب دینے سے صاف انکار کر دیا۔
جمعہ کی صبح سینتیس سالہ مُلا نذیر احمدزئی وزیر قبیلے کے صدر مقام وانا میں صحافیوں کے سامنے ایک قبائلی شخص کے حجرے میں پہلی مرتبہ اپنے موقف کی وضاحت کے لیے پیش ہوئے، اسی حجرے میں صحافیوں کو بھی ٹھہرایا گیا تھا۔
سب صحافیوں کے ذہنوں میں یہی سوال تھا کہ آخر مُلا نذیر کی ازبک جنگجوؤں سے کیوں بن نہیں پائی؟ اس کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ازبک باشندوں کے جرائم میں ملوث ہونے کی شکایت میں اضافے کے بعد ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا۔
"ازبک باشندوں کے جرائم میں ملوث ہونے کی شکایت میں اضافے کے بعد ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا۔"
مولوی نزیر
انھوں نے کہا ’یہ شکایات صرف وانا تک محدود نہیں تھیں بلکہ ٹانک جیسے علاقوں سے بھی ملی تھیں۔ طالبان کے رہنما سراج الدین حقانی ان کے پاس ان غیر ملکیوں کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے کی تجویز کے ساتھ آئے تھے، تاہم خود ازبکوں کے سربراہ قاری طاہر یلدیش کے انکار کے بعد اس پر غور نہ ہوسکا۔‘
مُلا نذیر سے میری ملاقات بس اس اخباری کانفرنس تک ہی محدود رہی۔ میں نے دیگر طالبان رہنماؤں کی نسبت انہیں سادہ، نرم گو اور دھیما انسان پایا، لیکن یہ خصوصیات طالبان کے دوسرے شدت پسند پہلوؤں کی بلکل عکاسی نہیں کرتی تھیں۔ دوسرے پٹھان کی طرح روایتی ’پٹو‘ چادر میں لپٹے مولوی نذیر پشتو کے علاوہ اردو پر بھی دسترس رکھتے تھے۔
مولوی نذیر کا خاندان کھیتی باڑی سے گزارا کرتا تھا اور وہ پاکستان کے علاوہ افغانستان میں بھی زرعی اراضی کے مالک تھے۔ اسی وجہ سے ان کا خاندان متنازع ڈیورنڈ لائن کی دونوں جانب بستا ہے۔ وہ پاکستانی ہونے کے ساتھ ساتھ افغان شہریت بھی رکھتے تھے۔ سرحد کے آر پار دونوں جانب آمدورفت کی وجہ سے وہ سرحد کو مانتے ہی نہیں تھے۔
جنوبی وزیرستان کے احمدزئی وزیر علاقے کے طالبان سربراہ، امیر یا بادشاہ مقرر ہونے کے بعد مولوی نذیر نے بھی موسیقی سے لے کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے تک پابندی عائد رکھی تاہم پاکستانی سکیورٹی اسٹیبلشمینٹ اس پابندی کو اپنے فائدے میں استعمال کرتی رہی۔






























