
ملا نذیر کی جانب سے جاری کیے گئے پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں
جنوبی وزیرستان کے علاقے سرا کنڈہ میں ہلاک ہونے والے جنوبی وزیرستان کے جنگجو گروپ کے سربراہ مُلا نذیر لوگوں کی نگاہ میں اس وقت آئے جب انہوں نے مارچ سنہ دو ہزار سات میں وانا میں غیر مُلکی اُزبکوں کے خلاف کارروائی کر کے ان کو علاقے سے نکلنے پر مجبور کردیا تھا۔
اس واقعے میں تیرہ مقامی لوگوں سیمت تیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
مُلا نذیر کا تعلق وزیر قبائل کی ذیلی شاخ کاکاخیل سے تھا جو وانا میں ایک اہم قبیلہ سمجھا جاتا ہے۔ مُلا نذیر وانا سے غیر مُلکی اُزبکوں کو نکالنے کے بعد جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں مقامی طالبان کے ایک سربراہ کے طور پر سامنے آئے اور ان کو احمدزئی وزیر قبائل کی مکمل حمایت حاصل ہوگئی تھی۔
مُلا نذیر کے والد کا نام عبدالسلام تھا جو تحصیل برمل کے رہائشی تھے۔ پینتیس سالہ مُلا نذیر نے ابتدائی دینی تعلیم برمل کے علاقے انگور اڈا میں حاصل کی تھی اور اس کے بعد انہوں نے وانا میں دارالعلوم وزیرستان میں داخلہ لیا تھا۔ لیکن انہوں نے اپنی تعلیم اس وقت چھوڑ دی تھی جب افغانستان میں امریکی حملہ ہوا۔ انھوں نے افغانستان میں شمالی اتحاد کے خلاف طالبان کا ساتھ دیا۔ مُلا نذیر جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل لاک اپ میں کئی مہینوں تک زیر حراست رہے۔
حکومتی اور عوامی سطح پر مُلا نذیر کے بارے میں یہ بات کہی جاتی تھی کہ وہ پاکستان میں شدت پسندی کے مخالف تھے اور افغانستان میں لڑنے کو ترجیح دیتے تھے۔
غیر مُلکی اُزبکوں کو علاقے سے نکالنے کے بعد وہ اُزبکوں اور بعض مقامی طالبان کمانڈروں کی فہرست میں اہم نشانے پر تھے اور کئی بار ان پر اور ان کے ساتھیوں پر حملے ہوئے تھے جس کی ذمہ داریاں بھی ان گروپوں نے قبول کی تھیں۔
دوسرے طالبان کی طرح ان کے بال اور داڑھی لمبے نہیں تھے۔ ہر کوئی ان کی رہائش گاہ اور دفتر میں آسانی سے جاسکتا تھا، تاہم امریکی جاسوس طیاروں کے حملے کی خوف کی وجہ سے وہ اکثر اوقات منظر عام سے غائب رہے تھے۔
"مُلا نذیر وانا سے غیر مُلکی اُزبکوں کو نکالنے کے بعد جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں مقامی طالبان کے فعال سربراہ کے طور پر سامنے آئے اور قومی سطح پر ان کو احمدزئی وزیر قبائل کی مکمل حمایت حاصل ہوگئی تھی۔"
بظاہرمُلا نذیر کا براہِ راست حکومت کے ساتھ کوئی امن معاہدہ نہیں ہوا تھا مگر احمدزئی وزیر قبائل کا حکومت کے ساتھ امن معاہدہ اصل میں مُلا نذیر کا امن معاہدہ سمجھا جاتا تھا۔
اس معاہدے کے دوران کئی بار سکیورٹی فورسز اور مُلا نذیر گروپ کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں فریقین کو نقصان بھی اُٹھانا پڑا تھا۔ لیکن احمدزئی وزیر قبائل نے امن معاہدہ ٹوٹنے نہیں دیا اور یہ آج تک برقرار ہے۔
طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ مُلا نذیر گروپ اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان اختلافات موجود تھے اور مقامی انتظامیہ کی بھی یہ کوشش تھی کہ دونوں گروپوں کے درمیان اختلافات قائم رہیں لیکن دونوں گروپوں نے اختلافات کم کرنے کی کوششیں کیں۔
مُلا نذیر دو دفعہ ڈرون حملے، دو بار بارودی سرنگ کے دھماکے اور ایک مرتبہ خُودکش حملے میں محفوظ رہے تھے۔ اُنتیس نومبر دو ہزار بارہ کو وانا بازار میں مُلا نذیر پر ہونے والے خوُدکش حملے کے بعد انہوں نے ایک پمفلٹ کے ذریعے بتایا تھا کہ وہ تین دفعہ مختلف حملوں میں محفوظ رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالی ان سے مزید دین کا کام لینا چاہتا ہے۔
جون دو ہزار بارہ میں مُلا نذیر نے ایک پمفلٹ کے ذریعے جنوبی وزیرستان میں پولیو مُہم کو ڈرون حملوں کے رُکنے کے ساتھ مشروط کیا تھا اور اس وقت سے ابھی تک وانا میں پولیو مُہم چلنے پر پابندی برقرار ہے۔
مُلا نذیر کا موقف تھا کہ ڈرون حملوں میں خواتین، بچے اور بوڑھے ہلاک ہورہے ہیں اور ڈرون طیاروں کی دن رات پروازوں سے مقامی لوگ ذہنی مریض بن گئے ہیں۔
ملا نذیر کے پانچ بھائی تھے جن میں سب سے چھوٹے حضرت عمر تھے جو مُلا نذیر سے پہلے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔اب تین بھائی رہ گئے ہیں جو مُلا نذیر سے بڑے بتائے جاتے ہیں اور ان تینوں کا طالبان تحریک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مُلا نذیر نے اپنے پسماندہ گان میں ایک بیوہ ایک دو سالہ بیٹا چھوڑا ہے۔






























