عبدالعزیز پر فرد جرم عائد

مولانا عبدالعزیر برقعہ پہن کر بھاگتے ہوئے پکڑے گئے
،تصویر کا کیپشنمولانا عبدالعزیر برقعہ پہن کر بھاگتے ہوئے پکڑے گئے

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے لال مسجد آپریشن کے دوران رینجرز کے ایک افسر کو قتل کرنے کے الزام میں لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز اور اُن کی اہلیہ سمیت اکیس افراد پر فرد جُرم عائد کردی۔

بدھ کے روز راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ملک اکرم اعوان نے قتل کے اس مقدمے کی سماعت کی تو استغاثہ کی طرف سے جمع کروائے جانے والے چالان کو مدنظر رکھتے ہوئے مولانا عبدالعزیز سمیت اُن کے اہلخانہ اور دیگر افراد کو اس مقدمے میں ہونے والی تفتیش سے آگاہ کیا۔

عدالت نے اُنہیں پڑھ کر اُن حالات و واقعات کے بارے میں بتایا جن کی بنا پر اُن پر اس مقدمے میں فرد جُرم عائد کی جارہی ہے۔ اس مقدمے میں ملوث تمام افراد کو فرم جُرم کی کاپیاں بھی تقسیم کی گئیں۔

واضح رہے کہ جولائی سنہ دوہزار سات میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے حکم پر فوج اور نیم فوجی دستوں نے لال مسجد اور اُس سے ملحقہ عمارت جامعہ حفصہ میں مبینہ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کیا تھا۔

اس آپریشن کے پہلے روز رینجر کے ایک افسر عبدالسلام فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوگئے تھے جس پر پولیس نے اُس وقت کے اس مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز اُن کی اہلیہ اور بیٹی سمیت اکیس افراد کے خلاف قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مولانا عبدالعزیز پر اس آپریشن کے دوران سات سے زائد انسداد دہشت گردی اور دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے جن میں سے وہ تمام مقدمات میں ضمانت پر ہیں جن میں ایف ایٹ مرکز میں واقع مساج سینٹر سے چینی باشندوں کا اغوا بھی شامل ہے۔

رینجرز اہلکار قتل کے مقدمے میں لال مسجد کے سابق خطیب کے علاوہ تمام اکیس افراد موجود تھے اور اُنہوں نے جُرم کی صحت سے انکار کیا۔ عدالت نے تین مئی کو اس حوالے سے شہادتیں طلب کرتے ہوئے گواہوں کو نوٹسز جاری کردیے ہیں۔