محسود قبائل کی واپسی کا چوتھا مرحلہ شروع

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے محسود قبائل کے متاثرین کی واپسی کا چوتھا مرحلہ بدھ پچیس اپریل سے شروع ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہِ نجات جون دو ہزار نو میں شروع کیا گیا تھا جس کے لیے محسود قبائل کے تمام علاقوں سے لوگوں کو نکل جانے کا حکم دیا گیا تھا۔
محسود قبائل کے علاقے میں فوجی آپریشن کے بعد سے تقریباً چھ لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے جن کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں کوئی کیمپ موجود نہیں تھا اور یہ متاثرین کرائے کے مکانوں، رشتے داروں یا دوستوں کے ساتھ رہائش پذیر ہوگئے تھے۔
متاثرین کی واپسی کا سلسلہ گزشتہ برس سے جاری ہے جس میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگ واپس جا چکے ہیں لیکن واپس جانے والے متاثرین میں سے اکثر واپس ڈیرہ اسماعیل خان یا ٹانک آ گئے ہیں۔ متاثرین کے مطابق علاقے میں ان کے مکانات تباہ ہو چکے ہیں اس لیے وہ واپس آنے پر مجبور ہیں۔
محسود قبائل کے علاقے کے سسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ نواب خان صافی کا کہنا ہے کہ محسود قبائل کے متاثرین کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جو متاثرین آج پچیس اپریل سے واپس جا رہے ہیں ان میں ایک سو اسی خاندان ٹانک کے علاقے کاوڑ سے ایک قافلے کی شکل میں جبکہ پچاس خاندان ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے رتہ کلاچی سے روانہ ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ محسود قبائل کے علاقے میں فوج اور پولیٹکل انتظامیہ کے تعاون سے متاثرین کی امداد کے علاوہ تعمیراتی کام بھی جاری ہے جس میں متاثرین کے مکانات کی دوبارہ تعمیر شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جانے والے خاندانوں کو پکا پکایا خوراک دی جا رہی ہے جبکہ پہنچنے پر ہر ایک خاندان کو ایک؛ایک مہینے کا راشن دیا جائیگا۔ اس کے علاوہ ٹانک سے روانہ ہوتے وقت پچیس ہزار روپے بھی دیے جا رہے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے ایک اور اہلکار ہیبت خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مرحلے میں چودہ سو کے قریب خاندان واپس جا رہے ہیں۔ اہلکار کے مطابق واپسی کا یہ مرحلہ پچیس اپریل سے اٹھائیس اپریل تک جاری رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بارہ سو کے قریب خاندان لدھا سب ڈویژن کے لیے جا رہے ہیں جبکہ دو سو سے زیادہ خاندان سروکئی سب ڈویژن کے لیے تیار ہیں۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ جن علاقوں کے لیے متاثرین جا رہے ہیں ان میں سپین کائی راغزئی، منڈانہ، لوئی کچہ، گانڑے کچہ، مُرغی بندہ، کوٹ کائی، کام کنڑہ، کانڑے ہیبت خیل، شلمان زئی، سراروغہ، زیڑی وام، بنگے والا اور پڑتئی گائی کے علاقے شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری طرف متاثرین کا کہنا ہے کہ واپسی پر انہیں بُہت کچھ دیا جا رہا ہے لیکن ان کے مکانات تباہ ہو چکے ہیں اور پورے خاندان کے لیے صرف ایک یا دو کمرے کے مکان بنائے گئے ہیں جو بڑے خاندان کے لیے رہائش کے قابل نہیں ہے۔
سراروغہ کے رہائشی وارث خان محسود نے بتایا کہ وہ خود دو سال سے نہیں گئے ہیں لیکن ان کے خاندان کے چند افراد ایک ماہ قبل اپنے علاقے میں واپس گئے تھے لیکن ان میں بہت سارے اس لئے واپس آ گئے کہ ان کے مکانات تباہ ہو چکے تھے۔
دوسری جانب تحریکِ طالبان پاکستان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے خلاف ان کی گوریلا جنگ جاری ہے اور موقع ملتے ہی وہ دوبارہ حملوں میں تیزی لائیں گے۔







