جنوبی وزیرستان کے متاثرین گرمی سے پریشان

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے لاکھوں متاثرین ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں شدید گرمی سے انتہائی پریشان ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق جنوبی وزیرستان کو واپسی کا عمل گزشتہ ایک سال سے جاری ہے لیکن ابھی تک بیس فیصد لوگ بھی واپس نہیں گئے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں ایک طرف شدید گرمی ہے اور دوسری طرف لوڈشیڈنگ اور کرائے کے مکانوں کی کمی نے ان کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے۔
مقامی انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ چند دن پہلے لدھا سب ڈویژن کے علاقے میں شدت پسندوں کے ساتھ ہونے والی جھڑپ کے بعد سکیورٹی فورسز کے کچھ اہلکار لاپتہ ہوگئے ہیں۔
لدھا سب ڈویژن کے رہائشی فضل الرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں ان کا اپنا مکان تھا، ان کو بجلی کا بل اور مکان کا کرایہ نہیں ادا کرنا پڑتا تھا لیکن یہاں ایک چھوٹے سے مکان میں مجبوری کی حالت میں دو سے تین خاندان ایک ساتھ رہائش پذیر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ واپس بھی نہیں جاسکتے کیونکہ فوجی کارروائی میں ان کا مکان بھی تباہ ہوگیا ہے اور وہاں حالات بھی اچھے نہیں۔
فضل الرحمن کے مطابق وہ تین سال سے اپنے علاقے سے بے دخل ہیں۔ جو مکانات فوجی کاروائی میں تباہ نہیں ہوئے انہیں بارش اور برف باری نے گرا دیا ہے۔
ایک اور متاثرہ فرد صدیق خان کا کہنا تھا کہ ان کے بچے اور خواتین ڈیرہ اسماعیل خان میں شدید گرمی سے انتہائی پریشان ہیں لیکن وہ کچھ نہیں کرسکتے۔
صدیق کے مطابق جن لوگوں کے پاس پیسے تھے وہ گرمی کی وجہ سے وانا یا میرعلی منتقل ہوگئے لیکن جو غریب لوگ ہیں وہ اس گرمی میں مجبور ی کی حالت میں رہ رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں نے ایک بار پھر جنوبی وزیرستان کے بعض علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے محسود قبائل کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
تحریک طالبان پاکستان محسود علاقے کے ترجمان عاصم محسود نے چند دن پہلے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کے گروہ کے جنگجووں نے جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں سکیورٹی فورسز کے قافلے کو نشانہ بنایا تھا جس میں سے آٹھ اہلکاروں کی لاشیں ان کے پاس ہیں اور چند ہی روز میں ان کی ویڈیو جاری کی جائے گی۔
اس واقعہ میں سکیورٹی فورسز نے اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی تردید کی تھی تاہم مقامی انتظامیہ کے ذرائع نے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے اب بتایا ہے کہ لدھا کے علاقے میں ایک جھڑپ کے دوران ان کے کچھ اہلکار لاپتہ ہوگئے ہیں اور خدشہ ہے کہ ان کو ہلاک کیا گیا ہے۔







