
حکیم اللہ محسود نے اپنے پیغام میں پاکستان کی حکومت کو سیکولر کہا
طالبان اور میڈیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے بی بی سی اردو کو بھیجے گئے ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے ایک ’چھوٹے سے واقعات کو بڑھا چڑھا کر‘ اسلامی شدت پسندوں کے خلاف ’زہریلہ‘ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
عید کے موقع پر چار منٹ لمبے اپنے پیغام میں حکیم اللہ محسود نے کہا کہ مسلم دنیا تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مغرب کبھی اسلام مخالف کارٹونوں اور کبھی فلموں کی آڑ میں مسلمانوں کو اشتعال دلاتا ہے۔
انہوں نے پاکستان کی حکومت سے بے اطمینانی کا اظہار کیا اور اسے سیکولر کہا۔
انہوں نے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر الزام لگایا کہ وہ عام شہریوں پر حملے کر کے ان کا الزام طالبان پر لگا دیتے ہیں تاکہ انہیں بدنام کیا جا سکے۔ ’لہذا کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے طالبان کے موقف کا انتظار کیا کریں۔‘
سینئر صحافی اور قبائلی امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ملالہ یوسف زئی پر ہونے والے حملے پر ردِ عمل نے طالبان کو پریشان کر دیا ہے۔ وہ ایک مرتبہ پہلے بھی اس معاملے پر وضاحت دے چکے ہیں۔ اور اب کی بار کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے خود بھی وضاحت کی ہے۔
کلِک رحیم اللہ یوسفزئی سے بات چیت
بی بی سی اردوکے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ ’عوامی رائے کی تو شاید طالبان کو ابھی بھی پرواہ نہ ہو لیکن وہ اپنے حامی اسلامی گروہوں کی ناراضی دور کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ طالبان کے لیے ہمدردی رکھنے والوں نے بھی اس حملے پر تنقید کی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کی جانب سے آئی ایس آئی پر تنقید کوئی نئی بات نہیں ہے۔ عام لوگوں کی ہلاکت پر ہمیشہ طالبان لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ ملالہ پر حملے کی ذمہ داری چونکہ طالبان قبول کر چکے ہیں اس لیے اس کا الزام وہ کسی کو نہیں دے سکتے۔






























