میں زندہ ہوں: حکیم اللہ محسود

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے اہم کمانڈر اور بیت اللہ محسود کے ترجمان حکیم اللہ محسود نے اپنی ہلاکت کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے وزیر داخلہ رحمان ملک سے کہا ہے کہ اب وہ بیت اللہ محسود کی ہلاکت کا ثبوت سامنے لائیں۔
اپنی ہلاکت کی افواہوں کے اڑتالیس گھنٹے کے بعد انہیں غلط ثابت کرتے ہوئے، حکیم اللہ محسود نے بی بی سی کو کسی نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ زندہ ہیں اور ان کی تنظیم میں مکمل اتفاق ہے۔
انہوں نے اس موقع پر تحریک کے نئے ترجمان اعظم طارق کی تعیناتی کا بھی اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کا مختلف معاملات پر موقف اب صرف وہی دینے کے مجاز ہوں گے۔
اس بیان سے قبل تک حکومت کا موقف تھا کہ بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد تنظیم کی نئی قیادت کے انتخاب پر اختلافات کی وجہ سے شوریٰ کے اجلاس میں لڑائی ہوئی جس میں حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمان ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم پیر کو ٹیلی فونک گفتگو سے ثابت ہوگیا ہے کہ حکیم اللہ اور ولی الرحمان دونوں زندہ ہیں۔ ولی نے دو روز قبل پشاور میں ایک صحافی سے بات کی تھی۔
حکیم اللہ کا نے میڈیا کو غلط خبریں شائع اور نشر کرنے سے منع کرتے ہوئے کہا: 'میڈیا خود مختار اور آزاد ادارہ ہوتا ہے، رحمان ملک اور دیگر مقتدرہ اداروں نے انہیں کھلونے کی طرح استعمال کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ نام نہاد اور بے بنیاد خبروں سے گریز کرے۔ رحمان ملک کے جتنے دعوے ہیں سب غلط ہیں'۔ ان کے الفاظ میں 'الحمد اللہ ہم اپنے امیر کی قیادت میں متحد ہیں تاہم اگر حکومت کے پاس بیت اللہ کی ہلاکت کے ثبوت ہیں تو وہ پیش کرے'۔
تاہم اس سوال کے جواب سے قبل ہی لائن منقطع ہوگئی کہ بیت اللہ کی ویڈیو جاری کرنے کا اعلان تو طالبان نے ہی کیا تھا۔ اب بظاہر انہوں نے بال حکومت کی کورٹ میں پھینک دی ہے۔
پیر کی صبح بی بی سی سے انٹرویو کے دوران رحمان ملک کا اصرار تھا کہ اگر بیت اللہ محسود ہلاک نہیں ہوئے تو طالبان آپس میں لڑ کیوں رہے ہیں؟ لیکن اب حکیم اللہ اور اس سے قبل ولی الرحمان کی میڈیا سے گفتگو سے بظاہر لگتا ہے کہ ایسا کوئی جھگڑا تنظیم کے اندر نہیں ہوا۔
جنوبی وزیرستان میں ایک گاؤں پر حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہنما بیت اللہ محسود کی ہلاکت کا معمہ حملے کے پانچ روز بعد بھی حل نہیں ہوا ہے۔ حکومت کا اصرار ہے کہ اسے ملنے والی زمینی معلومات کے مطابق بیت اللہ محسود ہلاک ہوچکے ہیں البتہ اس خبر کی سو فیصد تصدیق کے لیے وہ ڈی این اے جیسے ثبوت اکٹھے کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سوال کے جواب میں کہ وہ ڈی این اے کیسے حاصل کرسکیں گے، وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ بیت اللہ محسود کے بھائی بنوں میں ہلاک ہوئے تھے ان کا ڈین این اے اور بیت اللہ کا میچ کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا 'اس کے لیے علاقے سے ثبوت اکھٹے کیے جا رہے ہیں۔ ان کے خاندان کے لوگوں اور اس شخص سے جس نے ڈرپ لگائی تھی رابطہ ہو رہا ہے۔ ایک آدھ دن میں بات واضح ہوجائے گی۔ وہ علاقہ سڑک سے پندرہ کلومیٹر دور ہے لہذا مشکل پیش آ رہی ہے'۔
البتہ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگر یہ موت نہیں ہوئی تو 'پھر وہ آواز یا ویڈیو کیوں جاری نہیں کر رہے ہیں؟ یہ ساری لڑائی اب پیسوں کے لیے ہو رہی ہے'۔
وزیر داخلہ نے بیت اللہ محسود کے ایک اور اہم کمانڈر اور خود کش حملے آوروں کے نگراں قاری حسین کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔
رحمان ملک نے کہا کہ اب بھی ان 'بھولے بھٹکے' لوگوں کے لیے موقع ہے واپس آ کر اپنی قوم قبیلے کی خدمت کریں۔ 'اگر وہ ہتھیار ڈالیں تو کیس ٹو کیس بنیاد پر ان کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ مشرف کی نہیں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، ان سے سختی سے نمٹا جائے گا'۔

سوات کے طالبان رہنما مولانا فضل اللہ کے بارے میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ بزدل تھے اس لیے کہیں چھپ گئے ہیں۔ 'اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ چاہے مسلم خان ہو یا کوئی اور ہر کسی کا یہی انجام ہوگا۔ یا پکڑے جائیں گے یا مارے جائیں گے'۔
ادھر پاکستان کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے انہیں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہنما بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی کوئی ویڈیو فراہم نہیں کی ہے۔
بعض پاکستانی اخبارات نے طالبان رہنما کی ہلاکت کی معمے کی گرد گھومتی خبروں میں مقامی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکیوں کی جانب سے پانچ اگست کو جنوبی وزیرستان میں لدھا کے ایک گاؤں میں ہونے والے حملے کی ویڈیو فراہم کی گئی ہے جس میں بیت اللہ محسود ایک مکان کی چھت پر واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
لیکن پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکیوں نے ایسی کوئی ویڈیو فراہم نہیں کی ہے۔ خیال تھا کہ اگر ایسی کوئی ویڈیو موجود ہے تو اس سے اس خبر کی تصدیق میں مدد مل سکتی تھی۔







